خطبات محمود (جلد 37) — Page 104
$1956 104 خطبات محمود جلد نمبر 37 تمہاری نصیحت ٹھیک ہے لیکن اگر تمہاری دُم نہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہو۔دوسرے گیدڑوں نے کسی نہ کسی طرح اس گیدڑ کی پیٹھ اُس کی طرف پھیر دی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی اپنی دُم کٹی ہوئی ہے۔یہی حال اُن واقفین کا ہے جو اپنی غلطیوں کی وجہ سے وقف سے فارغ کر دیئے جاتے ہیں یا وہ خود وقف توڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے نو جوان بھی اس طرف نہ آئیں اور اس طرح ان کی ذلت پر پردہ پڑا رہے۔پس اس مبلغ نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل درست ہے۔میں خود بھی جانتا ہوں کہ ایسے واقفین باہر جا کر اس قسم کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ ان سے مرکز میں اچھا سلوک نہیں ہوا۔اس مبلغ نے لکھا ہے کہ میں ایسے شہر میں رہتا ہوں جس میں ملازمت کے متلاشی لوگ آتے رہتے ہیں اور مجھے اس بات کا علم ہے کہ جو لوگ وقف تو ڑ کر آتے ہیں انہیں اس گزارہ جتنی بھی تنخواہ نہیں ملتی جو جماعت انہیں دیتی تھی۔چنانچہ وہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔پھر اگر کسی کو باہر آ کر کچھ زیادہ تنخواہ بھی مل جاتی ہے تو وہ ہے بھی دھوکا ہی ہوتا ہے۔مثلاً کراچی میں کسی کو سو روپیہ مل جائے اور یہاں اسے اتنی روپیہ ملتے تھے تو یہاں کے اسی روپے کراچی کے سو روپیہ سے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بعض اوقات ستر استی روپے تو مکان کا کرایہ ہی ہوتا ہے۔پھر کھانا بھی نہایت مہنگا ہوتا ہے۔غرض ظاہری طور پر کسی کو یہاں کے گزارہ سے زیادہ بھی مل جائے تو یہ محض دھوکا ہوتا ہے کیونکہ اس کے مقابلہ میں اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔پس اس مبلغ نے لکھا ہے کہ وقف توڑ کر بھاگ جانے والے نوجوانوں کے پروپیگنڈا کی وجہ سے دوسروں میں وقف کے متعلق بددلی پائی جاتی ہے۔اور اگر یہ بات درست ہے تو میرے نزدیک اس پرو پیگنڈا کی وجہ سے بددل ہونے والے نوجوان اس روایتی گیدڑ سے بھی کم عقل رکھنے والے ہیں۔اس روایتی گیدڑ نے تو دوسرے گیدڑ کی تقریر سن کر یہ کہہ دیا تھا کہ تم میری طرف اپنی پیٹھ پھیر و۔اگر تمہاری دُم موجود ہوئی تو میں سمجھوں گا کہ تم اس نصیحت میں حق بجانب ہو لیکن اگر تمہاری دُم کٹی ہوئی ہے تو تم ہمیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہو لیکن ہمارے نوجوان ان لوگوں کی باتوں کی وجہ سے دھوکا میں آ جاتے ہیں۔پس اصل حقیقت یہی ہے کہ بعض لوگ غلطی کرتے ہیں تو بعد میں اُس۔