خطبات محمود (جلد 37) — Page 98
$1956 98 خطبات محمود جلد نمبر 37 موجود ہیں۔مجھے قیام انگلستان کے دوران میں بتایا گیا کہ فلاں شخص جس نے پچھلے سال بیعت کی ہے اڑھائی پونڈ یعنی ساڑھے سینتیس روپے ماہوار چندہ دیتا ہے۔بہرحال اب میں نے قانون بنا دیا ہے کہ اُس وقت تک کوئی بیعت قبول نہ کی جائے جب تک کہ اُس کے متعلق یہ نہ بتایا جائے کہ وہ چندہ دینے لگ گیا ہے کیونکہ اگر اس نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ اس کے لیے مالی قربانی نہ کرے۔آخر یہ کونسی معقولیت ہے کہ پاکستانی تو سلسلہ کا بوجھ اُٹھا ئیں اور دوسرے ممالک کے لوگ بوجھ نہ اُٹھائیں۔یہاں غریب غریب آدمی اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ دے رہے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ دوسرے ممالک کے لوگ قربانی نہ کریں اور وہ سلسلہ کا ہاتھ نہ بٹائیں۔اس وقت بیرونی جماعتوں میں سے ایسٹ افریقہ ویسٹ افریقہ اور انڈونیشیا اپنا بوجھ آپ اُٹھا رہے ہیں۔امریکہ کو ابھی پورا بوجھ اُٹھانے کی توفیق نہیں ملی۔لیکن اگر کوشش کی ئے تو کوئی وجہ نہیں کہ چند سالوں میں وہ اپنے سب اخراجات برداشت نہ کر سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس بارہ میں افریقیائی اور ایشیائی ممالک کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ایشیا کے مشن قریباً سارے کے سارے اپنے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔مثلاً دمشق کی کی جماعت ہے وہ چندہ کی بہت پابند ہے۔وہاں کے امیر سید منیر الحصنی صاحب تو اس قدر تندہی اور اخلاص کے ساتھ چندہ کی وصولی کا کام کرتے ہیں کہ گویا ہم نے انہیں یہاں سے اکاؤنٹنٹ بنا کر بھیجا ہے۔وہ اپنے خطوط میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ اپنی آمد اور اخراجات کا حساب درج کرتے ہیں کہ اتنی رقم آئی تھی، اتنی فلاں جگہ خرچ ہوئی ، اتنی فلاں جگہ خرچ ہوئی ہی اور اس وقت ہمارے پاس اس قدر روپیہ ہے۔اسی طرح عدن کی جماعت بھی چندہ کی ادائیگی میں باقاعدہ ہے۔ویسٹ اور ایسٹ افریقہ کی جماعتیں بھی اپنا خرچ خود برداشت کر رہی ہیں۔انڈونیشیا بھی اپنا بوجھ خود اٹھا رہا ہے۔سیلون کی جماعت بھی اچھی ہے۔برما بھی اب منظم ہو رہا ہے۔بہر حال چندہ کے سلسلہ میں افریقہ اور ایشیا کے ممالک سے اُتر کر امریکہ کا نمبر آتا ہے۔اگر اسی طرح آہستہ آہستہ سب ممالک نے اپنا بوجھ اُٹھا لیا تو امید ہے کہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔