خطبات محمود (جلد 37) — Page 97
$1956 97 خطبات محمود جلد نمبر 37 تنخواہیں بھی نہیں مل سکیں تو انہوں نے کہا اصل میں اندازہ میں غلطی ہو گئی تھی۔پس انہیں بھی سوچنے کا موقع دو اور خود بھی غور کر کے ان سے اس بارہ میں تبادلہ خیالات کرو۔میں نے جو سکیم بنائی ہے وہ یہ ہے کہ شادی کے معاً بعد مبلغ کو بھیج دیا جائے یا پھر اس کی شادی پر صرف اتنا عرصہ ہی گزرا ہو کہ اُس کا ایک بچہ ہو یا دو بچے ہوں لیکن دفتر والوں نے پرانے مبلغین کو اہل وعیال کے ساتھ بھیجنا شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بجٹ ختم ہو گیا اور مجھے مہینوں لکھتے رہے کہ خطبہ پڑھیں کہ دوست تحریک جدید میں حصہ لیں تا کہ آمد ہو اور اس سے تنخواہیں ادا ہوسکیں۔میں نے کہا مصیبت تو تمہاری اپنی پیدا کی ہوئی ہے اور خطبے میں پڑھوں۔بہر حال میں نے خطبے پڑھے، دوستوں نے چندے دیئے اور یہ مصیبت ٹل گئی۔پس اگر مبلغ کو ایسی عمر میں باہر بھیجا جائے کہ اُس کے دس گیارہ بچے ہوں تو نہ صرف ان کے اخراجات سفر ہی اتنے زیادہ ہوں گے جو ناقابلِ برداشت ہوں گے بلکہ اُس ملک میں قیام کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہوں گے۔لیکن اگر شادی کے معاً بعد مبلغین کو باہر بھیج دیا جائے مشکل پیش نہیں آئے گی۔کرایہ بھی تھوڑا لگے گا اور وہاں قیام کے اخراجات بھی زیادہ نہیں ہوں گے۔اور پھر خرچ کم ہو گا تو دفتر انہیں جلدی جلدی مرکز میں بلا سکے گا۔پھر بعض مبلغ باہر بیٹھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وکلاء کو کیمیا آتا ہے اور وہ جب چاہتے ہیں سکتے تیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ جاتے ہی لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اتنا روپیہ بھیج دو، اتنا خرچ بھیج دو حالانکہ پہلی بات تو یہی ہے کہ اگر پاکستانی چندہ دیتے ہیں تو ہالینڈ، انگلستان، جرمنی اور امریکہ والے کیوں چندہ نہیں دیتے؟ اب تو مبلغین کو کسی قدر چندہ لینے کی طرف توجہ پیدا ہو گئی ہے کیونکہ میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ ہم اُس وقت تک کوئی بیعت قبول نہیں کریں گے جب تک تم اُس کے ساتھ چندہ بھی نہ بھیجو۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چودھری عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے ایک ڈاکٹر کی بیعت بھیجی تو اُس کے ساتھ چار پے چندہ کی وصولی کی اطلاع بھی بھیجی۔اور لکھا کہ ابھی ان کا کاروبار اچھا نہیں اس لیے آمد کم ہے ابھی انہوں نے صرف اتنا وعدہ کیا ہے کہ میں ہر ماہ چار روپے چندہ دوں گا لیکن جب امد زیادہ ہو جائے گی تو چندہ کی مقدار بھی بڑھا دوں گا۔انگلستان میں بھی ایسے لوگ رو۔