خطبات محمود (جلد 37) — Page 94
$1956 94 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس کا منہ دیکھا ہے۔اب شام تک تو اس کا منہ دیکھ۔پھر اُس نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ مصیبت یہ ہے کہ یہاں اچھے خاوند نہیں ملتے۔اگر اچھے خاوند مل جائیں چاہے وہ آٹھ آٹھ بیویاں کریں ہمیں اس کی پروا نہیں۔میں نے لندن میں وہاں کے ایک بہت بڑے آدمی کو جو ایک بہت بڑے او پیرا 3 کے انچارج ہیں اور بارہ چودہ سو پونڈ ماہوار کماتے ہیں یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا آپ ہالینڈ کی بات کر رہے ہیں میں لندن میں دس ہزار ایسی عورتیں دکھا سکتا ہوں جو سوکنوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں اچھے خاوند مل جائیں۔مشکل صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھے خاوند نہیں ملتے۔اگر اسلامی تعلیم کے مطابق خاوند مل جائیں تو عورتوں کو تعد دازدواج کے مسئلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی تعلیم کے متعلق یورپین لوگوں کے دماغوں میں بہت بڑا تغیر پیدا ہو رہا ہے۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس تغیر کے نتیجہ میں اگر تم وہاں شادی کروانی تو وہ شادی بھی تمہارے لیے مفید ہو۔ایک میراثی کا لطیفہ مشہور ہے۔وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا اور گھر میں بیکار بیٹھا رہتا تھا۔اس کی بیوی نے اس سے بارہا کہا کہ تم کوئی کام کرو۔لیکن وہ اسے ہر دفعہ یہ کہہ کر ٹال دیا کرتا تھا کہ کام ملتا ہی نہیں۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ اُس ملک کی کسی اور ملک سے لڑائی ہوگئی اور بادشاہ نے فوج میں بھرتی شروع کر دی۔اُس وقت تنخواہ اگر چہ پانچ چھ روپیہ ہی تھی لیکن بیکار رہنے کی نسبت اس قدر قلیل تنخواہ بھی غنیمت تھی۔چنانچہ اس کی بیوی نے کہا کہ تم فوج میں ملازم ہو جاؤ۔میراثی نے کہا تم عجیب عورت ہو۔بیویاں تو اپنے خاوندوں کی بڑی خیر خواہ ہوتی ہیں اور تم مجھے مروانے کے لیے بیٹھی ہو۔اس پر اس کی بیوی نے کی کہا میں تمہیں بتاتی ہوں کہ ہر شخص جو فوج میں جاتا ہے وہ مر نہیں جاتا بلکہ بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بچ کر آ جاتے ہیں۔چنانچہ اس نے چکی لی اور اس میں دانے ڈال کر آٹا پیسنا شروع کیا تو کچھ دانے صحیح و سالم نکل آئے۔اس نے اپنے خاوند کو بلایا اور کہا دیکھو جن کو خدا تعالیٰ نے بچانا ہوتا ہے وہ اسی طرح چکی کے پاٹوں سے بھی صحیح و سالم نکل آتے ہیں۔اس پر میراثی نے کہا مجھے تو پسے ہوئے دانوں میں ہی سمجھ لے۔پس تم بھی یہ خیال نہ کرو