خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 93

$1956 93 خطبات محمود جلد نمبر 37 خدا تعالیٰ اُن کی بیوی کو اس امر کی توفیق دے دے تو یہ اُس کا احسان ہے۔ویسے وہ ایک مخلص نوجوان ہیں اور اگر انہوں نے وہاں شادی کر لی ہے تو انہوں نے اسلام کی تعلیم کے خلاف نہیں کیا۔اس لیے دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اُن کی بیوی کو توفیق دے کہ وہ اُن کے دینی کاموں میں روک نہ بنے۔لیکن جہاں تک ہمارا پہلا تجربہ ہے وہ یہی ہے کہ یورپین عورتیں دینی کاموں میں روک بن جایا کرتی ہیں۔اور قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں بعض دفعہ فتنہ بن جاتی ہیں۔2 ہاں! عرب ممالک میں شادی اس قسم کے نتائج پیدا نہیں کرتی۔عرب ممالک میں سے سادہ ترین ملک فلسطین ہے۔ویسے دوسرے علاقوں میں بھی ایسی عورتیں مل جاتی ہیں جو ہمارے تمدن کو برداشت کر لیتی ہیں۔لیکن یورپین عورتیں اس طرح نہیں کر سکتیں۔صرف ایک عورت میں نے ہالینڈ میں ایسی دیکھی ہے جس نے ایک مصری نوجوان سے شادی کی ہوئی ہے اور اسلامی تمدن کی فضیلت پر پادریوں سے بخشیں کرتی رہتی ہے۔وہ مجھے ملی تو اُس نے جی بتایا کہ میں پادریوں کو کہا کرتی ہوں کہ تم اسلام پر تعد دازدواج کی وجہ سے اعتراض کیا کرتے ہو۔لیکن اگر سوکن آئے گی تو ہم پر آئے گی مردوں پر تو نہیں آئے گی۔پھر تم ناراض کیوں ہوتے ہو؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تم مرد ہو اور سوکن تم نے لانی ہے۔تمہیں اس بارہ میں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔پھر لطیفہ کے طور پر اُس نے بتایا کہ میں ان سے کہا کرتی ہوں کہ ہمارے ہاں لمبے عرصہ تک ملاقاتوں کے بعد شادیاں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی بیویوں اور خاوندوں میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔اگر دس گیارہ سال کی ملاقاتوں اور سینما دیکھنے کے بعد بھی کسی کی شادی ہو جائے اور پھر گھر میں اُن کی لڑائی ہو جائے تو ایسی صورت میں اُس عورت کو سارا دن اپنے خاوند کا غصہ بھرا چہرہ دیکھنا پڑے گا۔لیکن اسلام نے مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ حکم دیا ہے کہ ہر بیوی کو نان و نفقہ کے علاوہ علیحدہ مکان بھی دیا جائے۔اس صورت میں میں دو پہر تک تو اُس کا منہ دیکھوں گی لیکن اس کے بعد اسے دوسرے گھر میں دھکیل دوں گی اور اپنی سوکن سے کہوں گی کہ اتنی دیر تک تو میں نے