خطبات محمود (جلد 36) — Page 86
خطبات محمود جلد نمبر 36 86 $1955 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہاں وہ ہمیشہ ہی زندہ رکھے جائیں گے۔گویا پینشن دائمی ہوگی۔اول پیشن دائی ہوگی۔دوئم پینشن اس کی سب ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہوگی۔سوئم وہ پنشن ایسی ہوگی کہ اس کی ضرورتوں کو ہی پورا نہ کرے گی بلکہ سارے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرے گی۔اگر اولاد بڑھتی چلی جاتی ہے، پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں ہوتی چلی جاتی ہیں تو پنشن والے کہیں گے کہ ہم نے کہاں سے حساب کر کے دینا ہے۔مگر وہ فرماتا ہے کہ وہ سب بھی اسی مقام پر رکھے جائیں گے اور جو حق اُس کو دیئے جائیں گے وہ اُن کو بھی دیئے جائیں گے جنہوں نے خدمت نہیں کی۔اب کوئی گورنمنٹ جود نیا میں ایسا سلوک کرے اور یہ کام کرے کیا کوئی ہو سکتا ہے جو اُس کی مذمت کرے؟ اول تو یہ کہ جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں انہیں وہ سامان مہیا کرے جن سے وہ کام چلائیں۔دوئم یہ کہ جب وہ کام کریں تو اس کا بدلہ انہیں بار بار دے۔پھر کام سے ہٹنے کے بعد بھی بدلہ ملتا ر ہے۔پھر وہ بدلہ نہ صرف اس کے لئے بلکہ اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے بھی کافی ہو۔اور نہ صرف یہ کہ کافی ہو بلکہ وہ بھی ایسی اچھی جگہ رکھے جائیں جہاں اُس کو جو کام کرنے والا ہے رکھا جائے۔اور پھر یہ حالت دو چار سال کے لیے نہ ہو۔بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہو۔ہمارے خالد فنک جو آئے ہوئے ہیں انہوں نے سنایا ( چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی سنایا کہ ہالینڈ کی گورنمنٹ اب یہ سوچ رہی ہے کہ ہمارے ہاں اچھی صحت ہونے کی وجہ سے آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور موت کا ریٹ بہت کم ہو گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گیا کہ بڑھوں کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے اور بڑھاپا کی پنشن جو گورنمنٹ دیتی تھی وہ اب نا قابل برداشت ہو رہی ہے۔تو وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اِس کو اُڑا دیا جائے۔اب دو ہی صورتیں ہیں یا بڑھوں کو مارڈالیں یا ملک سے نکال دیں۔تو گویا جو چیزیں ترقی کا باعث سمجھی جاتی تھیں وہی ان لوگوں کی تباہی کا موجب ہو گئیں۔پہلے انکی ترقی کا موجب یہ سمجھا جاتا تھا کہ برتھ ریٹ بڑھایا جائے اور موت کی شرح کو گھٹایا جائے۔لیکن اس کے گھٹانے سے دوسروں کی مددختم ہورہی ہے۔والرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں دوسری قسم کے گر بتائے ہیں (رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں ایک قسم کے گر ہیں) کہ الہی حکومت چونکہ ان باتوں پر مبنی ہے۔وہ اس لیے الْحَمْدُ لِلهِ کی