خطبات محمود (جلد 36) — Page 60
$1955 60 خطبات محمود جلد نمبر 36 کے سوا باقی سب جماعتیں بے ایمان ہیں۔حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔اگر ہم یہ کہیں کہ فلاں فلاں جماعت میں نقص ہے تو جن جماعتوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہے اور اپنے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے اُن کے حوصلے بڑھیں گے۔اُن کے ایمان میں زیادتی ہو گی۔مگر اب یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ جماعتیں جن کی طرف سے وعدے آچکے ہیں وکالت مال والوں کو کذاب کہتی ہوں گی یا پھر ہر شخص اپنے سوا سب کو بے ایمان کہتا ہوگا۔اور یہ دونوں باتیں خطر ناک ہیں۔لیکن دفتر والے سمجھتے نہیں۔اگر اسی طرح کام ہوتا رہا۔تو غلط فہمیاں بڑھتی جائیں گی۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں اور بتا دیتا ہوں کہ ابھی چند دن باقی ہیں۔اگر وکالت مال کے عملہ میں ایمان ہے تو وہ اب بھی ایسی جماعتوں کی لسٹ بھجوا دے۔جنہوں نے اس وقت تک وعدوں کے بارہ میں سستی سے کام لیا ہے۔وکلاء سے میں نے کہا تھا کہ وکالت مال کی نگرانی کرو اور اس سے رپورٹ لے کر مجھے روزانہ اطلاع دیا کرو۔وہ مجھے بتائیں کہ کیا انہوں نے کبھی ایسی اطلاع بھجوائی؟ میں نے انہیں نقص بتا دیا تھا۔کیا انہوں نے وہ نقص دور کر دیا ؟ کیا انہوں نے اٹھارہ دنوں میں ایک دن بھی میری ہدایت کے مطابق کام کیا؟ پھر اختر صاحب بتا دیں کہ کیا انہوں نے اٹھارہ دنوں میں ایک دن بھی میری ہدایت پر عمل کیا ؟ میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ فلاں جگہ نقص ہے اور وکیل نے جی حضور ! کہہ کر ٹال دیا۔اگر ہمیں ایسی جماعتوں کا پتا لگ جائے جنہوں نے وعدے بھجوانے میں سستی کی ہے تو ہم اُن کے امیر بدل دیں، اُن کے سیکرٹری بدل دیں۔باقی جماعتوں کو کیوں بد نام کریں۔بہر حال یہ طریق اصلاح کے قابل ہے۔جن جماعتوں نے دوسرے لوگوں کی اصلاح کرنی ہے انہیں پہلے گھر کی اصلاح کرنی چاہیے۔اگر کسی کے اپنے گھر میں گند پڑا ہے تو اُس نے گلی میں کیا صفائی کرنی ہے۔اگر ان لوگوں میں ہی کمزوری پائی جائے جو نمبر دار کہلاتے ہیں تو اور لوگوں کی اصلاح تو ہوچکی۔دوسرے لوگ تو کمزور ہوں گے ہی۔اگر تم پاکستان کے علاوہ دوسری جماعتوں میں جاؤ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہر جماعت میں یہ احساس ہے کہ ہمارا چندہ باہر کیوں جائے؟ بلکہ بعض جماعتیں یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ ہمارا روپیہ پاکستانی مبلغ پر کیوں خرچ ہو؟ حالانکہ انہیں یہ علم نہیں کہ جب پہلی دفعہ اُن کے پاس مبلغ بھیجا گیا تھا تو اسے پاکستانی جماعت نے