خطبات محمود (جلد 36) — Page 33
$1955 33 خطبات محمود جلد نمبر 36 کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا۔لیکن مادی چیزوں کا مزہ دوسرے کو بھی چکھایا جاسکتا ہے۔مثلاً اگر تم میرے پاس آؤ اور دریافت کرو کہ نماز کا کیا مزہ ہے؟ تو میں تمہیں اپنی تھوڑی سی نماز دے کر اس کا مزہ چکھا نہیں سکتا۔لیکن اگر میرے پاس پلاؤ ہو اور کوئی شخص کہے کہ میں نے پلاؤ نہیں کھایا مجھے علم نہیں کہ اس کا کیا مزہ ہے تو میں اپنی رکابی اس کی طرف سرکا دوں گا۔گویا مادی چیز کا مزہ چکھایا جا سکتا ہے۔لیکن روحانی چیز کا مزہ چکھایا نہیں جاسکتا اس کے لئے ایک ذوق پیدا کرنا پڑتا ہے۔اس کی مشق کرنی پڑتی ہے۔انگریزی زبان میں ایک محاورہ ہے۔ایکوائر ڈٹیسٹ (Acquired Taste) ہوتا ہے۔یعنی بعض چیزوں کا مزہ فوری طور پر آجاتا ہے۔اور بعض کا مزہ عادت کے بعد آتا ہے۔چنانچہ جتنی نشہ کی چیزیں ہیں ان کا مزہ ایکوائر ڈٹیسٹ ہے۔یعنی طبعی مزہ نہیں بلکہ شروع میں زبان اور منہ کو بُری لگتی ہیں۔مثلاً شراب ہے ، سگریٹ ہے، سگار ہے، یہ سب ایکوائر ڈٹیسٹ والی ہیں۔اگر کوئی شخص زردہ نہیں کھاتا اور اسے زردہ کھلا دیا جائے تو اسے قے آجائے گی۔لیکن جنہیں زردہ کھانے کی عادت ہے۔وہ قربانی کر کے بھی زردہ حاصل کریں گے۔یا پٹھانوں میں نسوار لینے کی عادت ہے اگر کسی نے پہلے کبھی نسوار نہ لی ہو تو نسوار لینے سے اس کا سر چکرا جائے گا۔سگریٹ اور سگار کی بھی یہی حالت ہے۔اگر کسی کو نئے سرے سے سگریٹ یا سگار پلایا جائے تو اُس کے سر میں درد ہونے لگتی ہے۔بلکہ بعض کو تو اس کے دھوئیں سے ہی تکلیف ہوتی ہے۔اس لیے سگریٹ اور سگار پینے والے لوگ جب ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہیں جو اس کے عادی نہیں ہوتے۔تو پہلے اجازت لے لیتے ہیں اور پھر سگریٹ یا سگار پیتے ہیں۔میرے پاس بھی ملاقات کے لئے جب ایسے لوگ آتے ہیں اور انہیں سگریٹ پینے کی حاجت محسوس ہو تو وہ کہتے ہیں کیا ہمیں سگریٹ پینے کی اجازت ہے؟ مثلاً اگر غیر احمدی یا عیسائی لوگ مجھے ملنے کے لئے آجائیں تو وہ اکثر اجازت لیتے ہیں اور پھر سگریٹ پیتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک انگریز آیا۔جب اسے سگریٹ پینے کی حاجت محسوس ہوئی تو اُس نے مجھ سے کہا کیا میں سگریٹ۔پی لوں؟ کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایکوائر ڈٹیسٹ ہے اور صرف عادی لوگوں کو ہی آسکتا ہے دوسروں کو نہیں۔اسی طرح نماز اور روزہ میں بھی ایکوائر ڈٹیسٹ ہے اور یہ مزہ صرف ایک دفعہ نماز پڑھنے یا سجدہ رکوع کرنے سے نہیں آتا بلکہ مشق کرنے کے بعد آتا ہے۔دل اور روح کی