خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 32

خطبات محمود جلد نمبر 36 الله 32 $1955 بعض بیڈ منٹن کے شوقین ہوتے ہیں۔لیکن اس وقت کرکٹ کا میچ ہوا تو سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔اور ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح وہ کرکٹ کا میچ دیکھ لے۔اسی طرح دنیا میں عیاشی اور دل کی رغبت کے کئی طرح کے سامان ہوتے ہیں۔مثلاً سرکس ہوتا ہے، تھیٹر ہوتا ہے، سینما ہوتا ہے، ناچ اور گانے ہوتے ہیں۔کوئی شخص کسی کا شوقین ہوتا ہے اور کوئی کسی کا شوقین ہوتا ہے۔لیکن جب کسی فن میں مہارت رکھنے والے آجاتے ہیں تو سب لوگ اُن کا فن دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں۔لیکن جو چیز پہلے ہی دن ان کی رغبت کا موجب ہو اس کی طرف وہ زیادہ جاتے ہیں۔دین کی کشش در حقیقت بہت کم ہے۔کیونکہ اس کا تعلق روحانیت سے ہے اور روحانی چاشنی رکھنے والے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔سکھوں کے زمانہ میں لوٹ مار زیادہ تھی۔کسی کے پاس کوئی چیز ہوتی تو دوسرے لوگ اس سے چھین لیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک مجلس میں یہ ذکر ہورہا تھا کہ کیا کسی نے گندم کی روٹی کھائی ہے؟ اُن دنوں لوگ زیادہ تر باجرہ ، جوار اور جو کھاتے تھے گندم شاذ ہی ملتی تھی۔اور اگر یہ پتا لگ جاتا کہ کسی کے پاس گندم ہے تو سکھ اُس سے چھین لیتے۔تمام لوگوں نے کہا ہم نے تو گندم کی روٹی نہیں کھائی صرف ایک شخص نے کہا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے دوسروں نے پوچھا کیا تم نے گندم کی روٹی کھائی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کھائی تو نہیں لیکن گندم کی روٹی ایک شخص کو کھاتے دیکھا ہے۔کھانے والا چٹخارے لے لے کر کھاتا تھا جس سے میں نے سمجھا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے۔اب گندم کی روٹی ایک مادی چیز ہے۔کھانے والا چٹخارے مارتا ہے تو دیکھنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس کا مزہ آ رہا ہے۔پھر اس کے چہرہ کے آثار اور اتار چڑھاؤ سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ روٹی بڑی مزیدار ہے۔پھر بعض لوگ پلاؤ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں۔پلاؤ مل جائے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔لیکن روٹی سالن دیا جائے تو اُس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔لیکن نمازوں کے مزے کا کسی دوسرے کو پتا نہیں لگتا۔کیونکہ ان کا مزہ اور لذت مخفی ہوتی ہے۔جن مادی چیزوں کا مز مخفی نہیں ہوتا وہ ہر کوئی محسوس کر لیتا ہے۔دوسرا فرق روحانی اور مادی چیزوں میں یہ ہے کہ روحانی مزہ انسان خود حاصل کرتا ہے