خطبات محمود (جلد 36) — Page 26
$1955 26 خطبات محمود جلد نمبر 36 غور کرنے کی عادت بھی پیدا ہو جائے گی۔ان کے اندر مال کے انتظام اور اس میں ترقی دینے ، جماعت کی حالت کو سدھارنے اور تعلیم وغیرہ کی قابلیت بھی پیدا ہو جائے گی۔انہیں مختلف محکموں کے کام کا پتا لگ جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ اس کام کے کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔اگر ہمارے پاس اس قسم کے مبلغ تیار ہو جائیں تو جب تک ہم کوئی نیا مشن نہیں کھولتے ہم ان سے دوسرے محکموں میں کام لے سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہم انہیں امور عامہ، زراعت ، تجارت یا کسی اور محکمہ میں نائب ناظر لگا دیں یا نا ئب ناظر نہیں تو سپر نٹنڈنٹ ہی لگا دیں اور وقت پر وکالت اور نظارت ان کے سپر د کر دیں۔اس سے ہمارا خرچ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔ایک می جس نے زراعت کے محکمہ میں کام کیا ہو وہ اگر کسی ایسے ملک میں بھیجا جاتا ہے جہاں لوگوں کا زیادہ تر گزاره زراعت پر ہے۔تو وہ بوجہ اپنے تجربہ کے تبلیغ کے علاوہ جماعت کی زرعی حالت کو بھی درست کرے گا۔بہت سے ممالک ایسے ہیں جو زراعت ، صنعت اور تجارت میں ابھی پاکستان کی سے بہت پیچھے ہیں۔یورپ اور امریکہ تو بہت آگے جاچکے ہیں۔لیکن ایشیا اور افریقہ میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جن کی حالت پاکستان کی نسبت بہت خراب ہے۔اگر ہمارے مبلغ اس قسم کے کام سیکھ کر وہاں جائیں تو دوسرے ممالک میں جا کر نہ صرف وہ جماعت کے لئے مفید وجود ثابت کی ہوں گے بلکہ گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نظر میں بھی وہ ملک کے لئے مفید ہوں گے۔اور وہ سمجھے گی کہ یہ لوگ صرف مولوی نہیں بلکہ ایک زمیندار ، صناع اور تاجر بھی ہیں۔اور اگر یہ طریق اختیار کر لیا جائے کہ فارغ وقت میں مبلغین کو کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ زیادہ آدمیوں کو کہاں لگائیں۔پھر یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ مبلغین کو بی۔اے کرا کے جرنلسٹ یا استاد بنا دیا جائے۔لیکن صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی اس طرف توجہ نہیں۔پھر میں نے بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مبلغین کو طب سکھائی جائے۔اگر ایسا انتظام کیا جائے تو بہت تھوڑی سی توجہ سے وہ طبیب بن جائیں گے۔ہماری طب کے ایسے اصول ہیں کہ انسان ذاتی مطالعہ کی وجہ سے اس میں ترقی کرسکتا ہے۔انگریزی طب کے ایسے اصول نہیں ان میں سرجری کا کام زیادہ ہوتا ہے۔اور پھر افعال اور اعضاء کے مختلف نتائج کو کیمیاوی طور پر یا خورد بین اور ایکسرے کے ذریعہ دیکھنا ہوتا ہے جن کو ذاتی مطالعہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔