خطبات محمود (جلد 36) — Page 25
$1955 25 خطبات محمود جلد نمبر 36 یکدم ایسی زیادتی نہ ہو جو نا قابلِ برداشت ہو۔حتی الوسع نئے مشن اُس وقت تک نہ کھولے جائیں گی جب تک کہ پہلے مشن اپنا بوجھ خود نہ اٹھا لیں۔ہم نے ابھی اس قسم کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا کہ ہم بالکل نیا مشن نہیں کھولیں گے۔لیکن یہ ضرور ہوگا کہ اگر پہلے ہم نے سات مشن کھولے تھے تو اب ایک کھولیں گے۔اور یہ طریق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پہلے مشن مضبوط نہ ہو جائیں اور جماعت کی مالی حالت بہت بہتر نہ ہو جائے۔لیکن بعض اخراجات میں کمی نہیں کی جاسکتی۔اور اگر ہم ان میں کوئی کمی کریں گے تو ہمارا کام پندرہ بیس سال دُور جا پڑے گا اور اس طرح جماعت کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔مثلاً نئے مشنری تیار کرنے پر جو خرچ ہوتا ہے اس میں کمی نہیں کی جاسکتی۔اگر ہم اس میں کمی کریں تو اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جب جماعتیں بڑھیں گی اور آدمی مانگیں گی تو ہم انہیں وقت پر آدمی مہیا نہیں کر سکیں گے۔ہماری مالی حالت بے شک اچھی ہوگی لیکن ہمارے پاس نفری نہیں ہوگی کیونکہ اخراجات میں کمی کرنے کی وجہ سے مبلغین کی تیاری میں ایک لمبا وقفہ پڑ گیا ہوگا۔پڑھائی کے لحاظ سے دیکھ لو اس پر سات سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔پھر ہم نے پڑھائی کے کی عرصہ کو ہی نہیں دیکھنا بلکہ جماعت میں نئی روح پیدا کر کے طلباء مہیا کرنا ہے اور نئی روح پیدا کرنے پر بھی چھ سات سال لگ جاتے ہیں اور اس طرح وقفہ کے بعد پہلے نئے مبلغ کے تیار ہونے میں تیرہ چودہ سال کا وقفہ پڑ جاتا ہے۔اس لئے مبلغ ہمیں بہر حال تیار کرتے رہنا ہوگا۔اس میں کمی نہیں کی جا سکتی۔یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔صدرا انجمن احمد یہ اور تحریک جدید سے جوغلطی ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ وہ مبلغ تو بناتے ہیں لیکن جب اُن کو وقفہ میں نہیں کھپا سکتے تو مبلغ پیدا کرنے میں سستی کرنے لگ جاتے ہیں۔لیکن کی میری تجویز یہ ہے کہ جو طالب علم مبلغین کلاس پاس کر لیں انہیں تبلیغ کے کام پر لگانے سے پہلے تین تین ماہ کے لئے کم سے کم چار دفاتر میں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔مثلاً تین ماہ وہ بیت المال میں کام کریں۔تین ماہ نظارت امور عامہ میں کام کریں۔تین ماہ دعوت و تبلیغ میں کام کریں۔تین ماہ کسی اور دفتر میں کام کریں۔اور اگر آدمی زیادہ ہو جائیں تو اس ایک سال کے عرصہ کو دو سال تک بڑھا دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کا ذہن صرف مولویت تک محدود نہیں رہے گا۔بلکہ صحابہ کرام کی طرح ان کے اندر دفتری کاموں ، تجارت ، صنعت اور زراعت ، سیاست ، اقتصاد، معاشرت