خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 312

$1955 312 خطبات محمود جلد نمبر 36 انہوں نے جرمنی میں ایک مبلغ اسلام کی تبلیغ کے لیے بھجوایا لیکن لطیفہ یہ ہوا کہ وہ مبلغ بھی ہماری جماعت سے ہی نکلا ہوا ایک شخص تھا اور میرے ہی ذریعہ وہ مسلمان ہوا تھا۔وہ جرمنی گیا اور چھ ماہ کے بعد ہی وہاں سے بھاگ آیا۔اُس نے یہی بتایا کہ مجھے کافی گزارہ نہیں ملتا۔میں وہاں کس طرح کام کر سکتا ہوں۔حالانکہ جو گزارہ اُسے ملتا تھا اُس کا دسواں حصہ ہمارے مبلغوں کو ملتا ہے اور پھر بھی وہ وہاں کام کر رہے ہیں۔پس دوسرے مسلمانوں میں جانی قربانی کا مادہ نہیں پایا جاتا۔اگر تم اُن سے چندہ لو گے تو آدمی پھر بھی تمہارے ہی جائیں گے۔لیکن اگر غیر احمدی دوست دس لاکھ روپیہ چندہ دیں اور جماعت کا چندہ مثلاً بیس لاکھ روپے ہو تو وہ اس بات پر فخر کر سکیں گے کہ ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر تمیں لاکھ روپیہ سالانہ تبلیغ اسلام پر خرچ کر رہے ہیں۔گویا اُن کی وہی مثال ہوگی جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ دو عورتیں کسی بیاہ پر گئیں۔ہمارے ملک میں نیو تا دینے کا رواج ہے۔جب نیوتا دینے کا وقت آیا تو اُن میں سے ایک غریب تھی۔اُس نے ایک روپیہ نیو تا دیا اور دوسری مالدار تھی اُس نے بیس روپے نیو تا دیا۔کسی عورت نے ایک روپیہ نیو تا دینے والی سے دریافت کیا کہ تم نے کتنا نیوتا دیا ہے؟ چونکہ اُس نے اِس بات کے اظہار میں شرم محسوس کی کہ اُس نے ایک روپیہ نیوتا دیا ہے اس لئے وہ اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے کہنے لگی۔میں نے بھا بھی اسی ، یعنی میں اور میری بھاوجہ نے اکیس روپیہ نیو تا دیا ہے۔اسی طرح غیر احمدی معززین بھی کہہ سکیں گے کہ ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر اتنے لاکھ روپیہ اشاعت اسلام کے لئے دے رہے ہیں۔پس تم اپنی اپنی جگہ جا کر غیر احمدی دوستوں سے چندہ لینے کی کوشش کرو۔اگر شروع شروع میں تمہیں کوئی ایک پیسہ بھی چندہ دے تو خوشی سے قبول کرلو اور یا درکھو کہ جو شخص ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی خاطر تھوڑی سی رقم خرچ کرنے کی توفیق پاتا ہے خدا تعالیٰ اُسے آئندہ پہلے سے زیادہ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔اگر پہلی دفعہ کوئی شخص پیسہ یا دو پیسے چندہ دیتا ہے تو بعد میں وہ دوروپے ، دس روپے، ہمیں روپے بلکہ سو سو روپے دینے کے لئے بھی تیار ہو جائے گا۔مگر ضرورت یہ ہے کہ تم دوسروں سے مانگو۔اور پھر یہ نہ دیکھو کہ اُس نے کیا دیا ہے۔