خطبات محمود (جلد 36) — Page 285
$1955 285 خطبات محمود جلد نمبر 36 یکدم پی لی۔پھر خدا تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اس حالت میں کسی قدرا فاقہ ہو گیا اور میں بیٹھ کے ناشتہ کرنے لگ گیا۔اور پھر علاوہ بسکٹ کے آلو کی بھجیا اور پھل کا بھی کھانے لگ گیا اور چائے بھی پینے لگ گیا۔اس سے پہلے کچھ اس قسم کی مرض تھی کہ میں گرم چائے نہیں پی سکتا تھا لیکن دو تین دن سے پھر طبیعت کچھ خراب ہو گئی ہے۔میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر مجھے بار بار جلاب لینے سے منع کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی عادت پڑ جائے گی میں نے ان کی یہ بات مان لی اور گوجیسا کہ انہوں نے کہا تھا اجابت تو ہوتی رہی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ انتڑیاں پوری طرح صاف نہیں ہوتی تھیں اور اس کی وجہ سے دماغ پر کچھ بوجھ رہتا تھا۔چنانچہ دو تین دن سے پھر طبیعت خراب ہو گئی ہے بھوک میں تدریجا کمی آنی شروع ہوئی اور اب یہ حالت ہے کہ بھوک بالکل بند ہے۔آج صبح میں ناشتہ نہیں کر سکا۔پھر پہلے یہ ہوتا تھا کہ اگر میں صبح کا ناشتہ نہ کر سکتا تو دوپہر کے وقت بھوک لگ جاتی تھی لیکن آج کھانے کے وقت بھی بھوک نہیں لگی۔گویا میں نے ساری رات بھی کچھ نہیں کھایا۔پھر صبح آٹھ سوا آٹھ بجے ناشتہ کے لیے بیٹھا تو ناشتہ بھی نہیں کر سکا اور خالی اٹھ بیٹھا۔پھر سوا بارہ بجے کے قریب کھانا کھانے کے لیے بیٹھا تو پھر بھی بھوک محسوس نہ ہوئی اور بغیر کچھ کھائے اٹھ بیٹھا۔اب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ شام کو کیا ہوگا ؟ میں کھانا کھا سکوں گا یا نہیں ؟ اس لیے وہ دوست جو پہلے شغف اور توجہ کے ساتھ میری صحت کے لیے دعا کرتے تھے اُن کو پھر دعا میں لگ جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ میری موجودہ بیماری کی حالت کو بدل دے اور سکون اور اطمینان کی حالت پیدا کر دے۔اب سالانہ جلسہ بھی آ رہا ہے اس موقع پر مجھے کچھ نہ کچھ بولنا پڑے گا اس کی وجہ سے بھی طبیعت پر ایک بوجھ سا ہے اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بوجھ کو بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اور صحت کی جو یہ حالت ہے کہ دو دن خراب رہتی ہے اور دو دن ٹھیک ہو جاتی ہے اور پھر دو دن خراب ہو جاتی ہے اس کو دور کر کے اس کی بجائے مستقل اطمینان اور سکون کی توفیق بخشے۔اس کے بعد میں ایک بات بیان کرنا چاہتا ہوں۔مگر اس سے پہلے میں تمہیداً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یا د رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بشارات ملتی ہیں یا اُس کی طرف سے بعض