خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 280

$1955 280 خطبات محمود جلد نمبر 36 درد صاحب کے اندر یہ یقین پایا جاتا تھا کہ گو میں کمزور انسان ہوں لیکن یہ کام خدا تعالی کا۔پھر میں اسے کیوں نہیں کر سکتا۔اور میں سمجھتا ہوں ہر شخص کے اندر یہ مادہ پایا جانا ضروری ہے۔اگر کسی انسان میں یہ مادہ پیدا ہو جائے تو اُس کی زبان میں برکت پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ اُس کی بات سننے لگ جاتے ہیں۔چودھری فتح محمد صاحب، میاں بشیر احمد صاحب، در دصاحب اور سید ولی اللہ شاہ صاحب سب اکٹھے آئے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ نے چالیس چالیس سال تک سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان میں سے زندہ افراد کو بھی زندگی عطا کر کے اور زیادہ خدمت کی توفیق بھی دے سکتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو ہی لے لو ہمارے نزدیک وہ 120 سال تک زندہ رہے۔پس گو ان کی عمریں زیادہ ہو چکی ہیں کوئی 62 سال کا ہے، کوئی 64 سال کا ہے اور کوئی 65 سال کا ہے۔اور میری عمر تو اس وقت 67 سال کی ہو چکی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہم میں سے بعض کو صحت والی عمر دے کر ان سے اُس وقت تک کام لے لے جب تک جماعت کے نوجوانوں کے اندر بیداری نہ پیدا ہو جائے۔اور وہ سمجھنے نہ لگ جائیں کہ ہمیں سلسلہ کا بوجھ اٹھانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔پس میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ دین کی خدمت کے لیے آگے آئیں۔اور صرف آگے ہی نہ آئیں بلکہ اس ارادہ سے آگے آئیں کہ انہوں نے کام کرنا ہے۔دیکھو ! حضرت خالد بن ولید نو جوان آدمی تھے۔حضرت عمر نے آپ کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو کمانڈر انچیف مقرر کر دیا۔اُس وقت حضرت خالد بن ولید کی پوزیشن ایسی تھی کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے خیال کیا کہ اِس وقت اُن سے مان لینا مناسب نہیں۔حضرت خالد بن ولید کو اپنی برطرفی کے حکم کا کسی طرح علم ہو گیا۔وہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے پاس میری برطرفی کا حکم آیا ہے لیکن آپ نے ابھی تک اُس حکم کو نافذ نہیں کیا۔حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے کہا۔خالد ! تم نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے اب بھی تم خدمت کرتے چلے جاؤ۔خالد نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن خلیفہء وقت کا حکم ماننا بھی ضروری ہے۔آپ مجھے برطرف کر دیں اور کمانڈرانچیف کا عہدہ خود سنبھال لیں۔میرے سپر د آپ چپڑاسی