خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 279

$1955 279 خطبات محمود جلد نمبر 36 کی تبلیغ کے لیے دور دور تک گیا تھا۔اب وہ فوت ہوئے تو ہمیں اُن کا قائم مقام نہیں ملا۔اُن کا کام چودھری مظفر الدین صاحب نے سنبھالا ہے لیکن ان کی وہ پوزیشن نہیں جو صوفی مطیع الرحمن صاحب مرحوم کی تھی۔صوفی صاحب ایم۔اے تھے اور چودھری صاحب بی۔اے ہیں۔پھر یہ کسی جگہ بھی کامیاب مبلغ نہیں رہے۔پہلے ہم نے انہیں پروف ریڈر کے طور پر لگایا ہوا تھا۔اب انہیں رسالہ کا ایڈیٹر بنا دیا ہے۔اگر ہمارے پاس ایسے واقفین زندگی ہوتے جو ایم اے ہوتے اور وہ انگریزی میں مضامین لکھتے ، کتابیں تصنیف کرتے اور ہمیں پتا لگتا کہ مشق کی وجہ سے ان کی زبان دانی اس معیار پر پہنچ چکی ہے کہ انہیں کسی رسالہ کا ایڈیٹر مقرر کیا جا سکتا ہے ہم صوفی صاحب کی وفات پر ان میں سے کسی کو اس رسالہ کا ایڈیٹر مقرر کر دیتے۔لیکن اگر کوئی مضمون نہیں لکھتا اور اپنے دل میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑی اچھی انگریزی لکھ سکتا ہے تو ہمیں اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ہاں اگر کوئی شخص مضامین لکھتا ، کتا بیں تصنیف کرتا اور لوگوں پر اپنی دھاک بٹھا دیتا تو پھر ہمیں آپ ہی آپ خیال آجاتا کہ اُس کو ایڈیٹر بنا دیں۔انگریزی زبان بہر حال تبلیغ میں کام آنے والی زبان ہے۔اگر نو جوان انگریزی زبان میں مضامین لکھتے رہیں ، کتابیں تصنیف کریں، تو اُن پر ہماری نظر رہے گی اور جب کوئی فوت ہو جائے گا تو ہم ان میں سے کسی کو اس کی کا قائم مقام مقرر کر سکیں گے۔در دصاحب جب سلسلہ کی خدمت کے لیے آئے تو اُن کی عمر زیادہ نہ تھی۔لیکن اُس عمر میں بھی اُن کے وقار کا یہ حال تھا کہ ہم انہیں بڑے سے بڑے افسر سے بھی ملنے کے لیے بھیج دیتے تو وہ نہایت کامیابی کے ساتھ جماعت کی نمائندگی کر کے آجاتے تھے۔اگر ہم انہیں کہتے کہ وائسرائے سے ملاقات کے لیے جاؤ تو وہ فوراً اُس کی ملاقات کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔اور کامیاب طور پر اُسے مل کر آتے تھے۔کونسل کے ممبروں کے پاس انہیں بھیجا جاتا تو وہ بغیر کسی جھجک کے چلے جاتے اور نہایت کامیابی کے ساتھ سلسلہ کے کام بجالاتے۔اُن کے دل میں کبھی بھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھا کہ وہ لوگ بڑے درجہ کے ہیں اور میں کمزور انسان ہوں۔اس وقت میں کالج کے پروفیسروں کے متعلق بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ باوجود یکہ اس وقت ملک کی حکومت اپنی ہے انہیں اگر گورنر کے پاس بھی بھیجا جائے تو وہ کامیابی کے ساتھ کوئی کام کرسکیں۔لیکن