خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 263

$1955 263 خطبات محمود جلد نمبر 36 کچھ کمزور طبیعت کے بھی ہوتے ہیں اور کچھ مضبوط طبیعت کے ہوتے ہیں ممکن ہے مرزا مبشر احمد میں عقل کم ہو اور وہ اُس وقت بات اچھی طرح نہ سمجھ سکا ہو۔جب قانونی طور پر اس کا جرم ثابت نہیں تو اس کی سزا میں کسی قدر کمی کر دینا ضروری ہے۔محکمہ یہ مانتا ہے کہ ہم نے مرزا مبشر احمد کو مایوسی والا جواب دیا تھا اور لکھا تھا کہ ہمیں آج کل ڈاکٹروں کی ضرورت نہیں۔اصل میں یہ نقص اس لیے واقع ہوا کہ نو جوان زندگی وقف کر کے تحریک جدید میں آتے ہیں اور کام سارے صدرانجمن احمدیہ کے سپرد ہیں۔اگر مرزا مبشر احمد کو جواب دینے سے قبل تحریک جدید کا محکمہ صدرانجمن احمدیہ سے دریافت کر لیتا کہ آیا انہیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ تو ممکن ہے وہ کہتے ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے اور اسے مبہم اور مایوس کن جواب دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔لیکن بہر حال تحریک جدید کے پاس نہ کوئی ہسپتال تھا اور نہ اُسے ڈاکٹروں کی ضرورت تھی اس لیے اُس نے مرزا مبشر احمد کو مایوسی والا جواب دے دیا اور اُسے نوسو یا ہزار روپیہ تنخواہ پیاری لگی اور وہ گورنمنٹ سروس میں چلا گیا۔جہاں تک دنیا داری کا سوال ہے وہ تو ثابت ہے۔لیکن اس سے بجرم اور سزا میں کوئی مناسبت ثابت نہیں ہوتی۔سزا جرم سے بہر حال زیادہ ہے۔اگر مرزا مبشر احمد وقف میں حاضر ہو جاتا اور پھر بھاگ جاتا تو وہ یقیناً اس سزا کا مستحق تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ میں اُسے بدلنے کا ارادہ کرتا۔اس نے ڈاکٹری پاس کرنے کے بعد دفتر تحریک جدید کو لکھ دیا تھا اور دفتر نے اُسے یہ جواب دیا تھا کہ ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت نہیں اس لیے وہ سرکاری ملازمت میں چلا گیا لیکن اُسے خود عقل سے کام لینا چاہیے تھا اور اسے یہ کی خیال کرنا چاہیے تھا کہ محکمہ کو میری ضرورت نہیں تو نہ ہو لیکن مجھے تو دین کی خدمت کی ضرورت ہے۔مگر وہ عقل کا کمزور تھا یا بزدل تھا اس لیے اُسے دفتر کے اس جواب سے تقویت مل گئی اور اُس نے یہ سمجھا کہ اگر میں وقف کو چھوڑ دوں تو میں سلسلہ اور خدا تعالیٰ کا قانونی مجرم نہیں ہوں۔بہر حال ان سارے پہلوؤں کو دیکھ کر میں اعلان کرتا ہوں کہ میں نے جو یہ اعلان کیا تھا کہ اُس سے چندہ نہ لیا جائے اُس کا چونکہ اس کی آخرت پر مستقل اثر پڑتا ہے اس لیے میں سزا کے اس حصہ کو منسوخ کرتا ہوں۔اب اگر مرزا مبشر احمد چندہ دینا چاہے تو لے لیا جائے۔ہاں اُس