خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 262

$1955 262 خطبات محمود جلد نمبر 36 میونسپل کمیٹیوں کے سپرد ہوتا ہے۔اگر کمیٹی کے ٹیکس پوری طرح ادا ہو جائیں اور اس کی آمد بڑھ جائے تو یہ بوجھ بھی صدرانجمن احمدیہ کے کندھوں سے اتر کر کمیٹی پر جا پڑے گا اور تمہارے بچے سہولت سے تعلیم حاصل کر لیں گے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ 2 نومبر 1950 کو میں نے مرزا مبشر احمد جو مرزا بشیر احمد صاحب کے لڑکے ہیں ان کے متعلق یہ اعلان کیا تھا کہ 1۔آئندہ ان سے کوئی چندہ نہ لیا جائے۔غالباً اسی وجہ سے ان کی وصیت منسوخ کر دی گئی تھی یا انہوں نے وصیت کرنی چاہی تھی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔2۔ان کو سلسلہ کا کوئی عہدہ نہ دیا جائے۔3 سلسلہ کی کسی تقریب میں ان کو شامل نہ کیا جائے۔4۔میری بیویوں اور بچوں کو ان سے کسی قسم کے تعلقات رکھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ان کی طرف سے اور ان کے بعض رشتہ داروں کی طرف سے بار بار یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو اس بارہ میں سزائیں دی جا چکی ہیں اُن کا فعل مبشر احمد سے بالکل مختلف ہے۔عام طور پر یہ سزا اُن لوگوں کو دی جاتی ہے جو وقف میں شامل ہو گئے ہوں اور پھر بھاگ گئے ہوں۔لیکن مرزا مبشر احمد کا یہ عذر تھا کہ جب انہوں نے ڈاکٹری پاس کی تو انہوں نے تحریک کو لکھا کہ میں نے امتحان پاس کر لیا ہے۔آپ بتائیں کہ مجھے کہاں لگانا ہے؟ لیکن دفتر تحریک جدید نے مجھے یہ جواب دیا کہ ہمارے پاس تمہارے مناسب حال کوئی جگہ نہیں۔اس لیے میں نے گویا دفتر کی اجازت کے ماتحت گورنمنٹ سروس اختیار کر لی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دفتر کا یہ جواب تسلی بخش نہ تھا اور مرزا مبشر احمد کا جرم اُن لوگوں کا سا نہیں تھا جو وقف میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔اور خود مجھے بھی اس کے جرم اور سزا میں فرق نظر آتا تھا۔لیکن مجھے اس بات پر غصہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پوتا ہے اس لیے اُس کا جرم دوسروں سے زیادہ ہے۔مانا کہ اُس کے پاس وقف سے بھاگنے کی قانونی وجہ تھی لیکن اُس میں دین کے لیے دوسروں سے زیادہ غیرت ہونی چاہیے تھی۔اس لیے میں نے اُس وقت اس سزا پر اصرار کیا لیکن اب مجھے خیال آیا ہے کہ آخر خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے