خطبات محمود (جلد 36) — Page 257
$1955 257 خطبات محمود جلد نمبر 36 سکھائے کہ کس طرح صفائی رکھی جاسکتی ہے۔اور پھر اس بات کی نگرانی کرے کہ اُن کی اس نصیحت پر عمل بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔میں جب انگلستان سے واپس آیا تو خلیل احمد ناصر مبلغ امریکہ بھی میرے ساتھ آئے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ کچھ عرصہ ہوا یو۔این۔او کا ایک نمائندہ پاکستان آیا اور وہ ربوہ میں بھی آیا تھا۔واپسی پر وہ مجھے ملا اور اُس نے بیان کیا کہ میں ربوہ بھی گیا تھا۔میں تمہاری آرگنائزیشن کی بہت تعریف کرتا ہوں۔تم نے بہت جلد ایک شہر آباد کر لیا ہے۔لیکن ساتھ ہی اُس نے کہا تمہارا شہر افسردہ سا نظر آتا تھا۔میں نے دریافت کیا کہ اس سے اُس کا کیا مطلب تھا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ اِس سے اُس کا یہ مطلب تھا کہ وہاں صفائی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔اسی طرح وہاں نہ پھول تھے اور نہ درخت تھے۔اس لیے شہر مردہ سا نظر آتا تھا۔ہمارا پہلے یہ خیال تھا کہ یہاں ترکاریاں اور باغ نہیں لگائے جا سکتے لیکن اب تجربہ نے بتایا ہے کہ یہاں اس قسم کی چیزیں کاشت کی جاسکتی ہیں۔کل ہی ایک شخص نے میرے پاس خربوزہ بھیجا اُس نے اُسے بویا نہیں تھا بلکہ وہ آپ ہی زمین سے نکل آیا تھا۔اُسے پتا نہیں تھا کہ وہ کیا چیز ہے اُس نے وہ میرے پاس بھیج دیا اور کہا مجھے پتا نہیں یہ کیا پھل ہے۔یہ آپ ہی نکل آیا ہے۔میں نے اسے بویا نہیں تھا لیکن ہے بہت میٹھا۔میں نے دیکھا تو وہ خربوزہ ہی تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے خربوزہ کھا کر پیج وہاں پھینک دیئے اور خربوزہ کی بیل اُگ آئی۔پس اب یہاں درخت اور سبزیاں اُگ آتی ہیں۔لیکن اُگتی محنت سے ہی ہیں۔اس لیے ربوہ کے جن حصوں میں اچھا پانی نکلا ہے وہاں درخت اور پودے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔قادیان میں قریباً ہر گھر میں باغ تھا۔یہاں بھی دوستوں کو درخت لگانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہاں لوگوں نے قریباً ہر گھر میں نکے لگوا لئے ہیں اس لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔میونسپل کمیٹی کو بھی چاہیے کہ وہ بھی ٹیوب ویل لگا کر پائپ کے ذریعہ گھروں میں پانی پہنچائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت نل ملنے مشکل ہیں لیکن اگر میونسپل کمیٹی ٹیوب ویل لگائے تو چونکہ گورنمنٹ میونسپل کمیٹیوں سے خاص رعایت کرتی ہے اس لیے گورنمنٹ اسے کنٹرول نرخ پر نل مہیا کر دے گی۔اگر کمیٹی اچھے پانی پر ٹیوب ویل لگا کر پانی شہر میں پہنچا دے تو اس سے میونسپل کمیٹی کی آمد بھی بڑھے گی اور اس سے یہ