خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 256

$1955 256 خطبات محمود جلد نمبر 36 کاغذ پھاڑ نا ہو وہ گھر میں آئے گا ، کاغذ پھاڑے گا اور اُس کے پُرزے اُس ڈرم میں ڈال دے گا جو اس غرض کے لیے گھر میں رکھا ہوا ہوتا ہے۔میونسپل کمیٹی کا ٹرک باری پر ہفتہ اتوار کو یا کسی اور دن جو پہلے سے مقرر ہوگا اُس گھر کے سامنے آئے گا۔اُس دن وہ ڈرم گھر سے باہر رکھ دیا جائے گا۔کمیٹی کے ملازم گند ٹرک میں ڈال دیں گے اور اس ڈرم کو دوبارہ صاف کر کے گھر کے سامنے کی رکھ دیں گے اور گھر والے اُسے اٹھا کر اندر لے جائیں گے۔ہماری بھی یہاں کئی قسم کی تنظیمیں ہیں۔ایک تو میونسپل کمیٹی ہے جس کے ممبروں کو ہم نے ہی مقرر کیا ہے۔یورپ میں یہ اصول ہے کہ جو شخص کسی قوم کا نمائندہ ہو وہ اپنی قوم کی رائے پر چلتا ہے اور اس کی خدمت کرتا ہے۔میونسپل کمیٹی ربوہ کے ممبروں کا بھی فرض ہے کہ جن لوگوں نے انہیں مقرر کیا ہے (اور صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے انہیں مقرر کیا ہے خلیفہ وقت اُن کا ہیڈ ہے۔وہ ان کی آراء کو قیمت دیں اور ان کے مطابق عمل کریں۔بلکہ یہ ان کا دُہرا فرض ہے کہ وہ شہر کی صفائی کروائیں۔گورنمنٹ کا بھی ان سے یہی تقاضا ہے اور ہم بھی ان کو اسی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔پس پہلے تو میں میونسپل کمیٹی ربوہ سے کہوں گا کہ وہ ربوہ میں صفائی کا مناسب انتظام کرے اور ہر گھر کے لیے یہ لازمی قرار دے کہ وہاں یورپین شہروں کی طرح ایک ڈرم رکھا جائے۔اگر ان ڈرموں کا اکٹھا آرڈر دے دیا جائے تو یہ ستی قیمت پر مہیا کئے جا سکتے ہیں۔مثلاً اگر یہ ڈرم تین چار روپے میں آجائے تو آسودہ حال لوگوں سے یہ رقم لیکر انہیں ڈرم مہیا کر دیا جائے۔اور جو غریب ہیں اُن کے لئے صدر انجمن احمد یہ اور محلہ والوں کو تحریک کی جائے کہ انہیں ڈرم خرید کر دے دیں۔اس طرح گھروں سے بندھا بندھا یا گند باہر آئے گا اور اُسے کمیٹی والے شہر سے باہر لے جائیں گے اور گلیوں اور کوچوں میں گند نہیں پڑے گا۔یہ نہیں ہو گا کہ کوئی گتا گندگی میں پڑی ہوئی چیز پر منہ مار کر اُسے کھینچے لئے جا رہا ہو۔کسی جگہ جانور اپنے پاؤں سے اُسے ٹھوکریں مار کر گند پھیلا رہا ہو اور کہیں کوئی غلیظ انسان اُسے ٹھو کر میں مار کر اِدھر اُدھر بکھیر رہا ہو۔پھر لوکل کمیٹی ہے۔وہ بھی ایک قسم کی میونسپل کمیٹی ہے۔اُس کا بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو صفائی کے برقرار رکھنے کی تحریک کرے۔اسی طرح لجنہ اماء اللہ کا کام ہے کہ وہ مستورات کو