خطبات محمود (جلد 36) — Page 231
خطبات محمود جلد نمبر 36 66 231 $1955 خَلْقِ طَيْر“ کا معجزہ بیان کیا گیا ہے اس میں كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ “ کے الفاظ آتے ہیں۔جس کی کے معنے یہ ہیں کہ وہ پرندے کی ہیئت کی مانند خلق کرتے تھے۔یعنی جس طرح ایک پرندہ اپنے پروں کے نیچے انڈوں کو لے کر بیٹھ جاتا اور انہیں اپنی گرمی پہنچاتا ہے جس کے نتیجہ میں بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی لوگوں پر اپنی روحانیت کا ایسا اثر ڈالتے اور اُن کی ایسے رنگ میں تربیت کرتے کہ وہ آسمان روحانی کی بلندیوں میں پرواز کرنا شروع کر دیتے۔اس آیت کے معنے بھی مفسرین کی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔لیکن اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے الہام کیا کہ "ہزاروں آدمی تیرے پروں کے نیچے ہیں " 8 اس الہام نے قرآن کریم کی اس آیت کے معنوں کو واضح کر دیا اور بتا دیا کہ مسیح کے متعلق پرندے پیدا کرنے کا جو ذکر آتا ہے اُس سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ روحانی استعداد رکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے اور انہیں اپنی صحبت میں رکھتے تھے جس کے بعد وہ روحانیت میں ترقی کرنے لگ جاتے۔پس سینکڑوں الہامات ایسے ہیں جن سے قرآن کریم کی مشکل آیات پر روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔جس طرح ایک خادم کا کام ہے کہ وہ اپنے آقا کے کپڑوں وغیرہ سے گردو غبار صاف کرے ، بوٹ پالش کرے اور اُس کے سامان کی حفاظت کرے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات قرآن کریم کے معانی پر پڑی ہوئی گردو غبار کو صاف کر کے انہیں لوگوں پر واضح کرتے ہیں اور اُنہیں اُن کی اصل شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔اگر تم انہیں غور سے پڑھو اور پھر قرآن کریم کی آیات پر تدبر کرو تو تمہیں سمجھ آجائے گا کہ ان کے ذریعہ قرآن کریم کے بہت سے مشکل مقامات حل ہو جاتے ہیں۔پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خادم اور غلام ہیں اسی طرح آپ کے الہامات بھی قرآن کریم کے تابع اور اس کے خادم ہیں۔انہیں کوئی علیحدہ حیثیت حاصل نہیں۔دوسری بات میں جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست مجھے بار بار لکھتے رہتے ہیں کہ ہمیں قادیان کب ملے گا؟ میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ قادیان تو ہندوستان کا حصہ ہے۔تم نے