خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 216

$1955 216 خطبات محمود جلد نمبر 36 خود بخود ڈیوڑھی ہو جائے گی۔اگر ساری جماعت اس طرح کرے تو چندہ تحریک جدید پچھلے سال کی نسبت یقیناً ڈیوڑھا ہو سکتا ہے۔اور اگر جماعت کی تعدا د دگنی ہو جائے تو چندہ تحریک جدید پچھلے سال کی نسبت تکنا ہو جائے گا۔بہر حال جماعت کے دوستوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس تحریک میں پہلے سے زیادہ حصہ لیں۔اس کے علاوہ میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ دوسروں کو تبلیغ کرنے سے ڈرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس بارہ میں گورنمنٹ کی طرف سے ممانعت ہے۔حالانکہ گورنمنٹ کا اعلان صرف سرکاری ملازمین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ اس بارہ میں گورنمنٹ نے جس قاعدہ کا اعلان کیا ہے اُس کا اردو تر جمہ یہ ہے کہ "سرکاری ملازمین کو اس امر کی ممانعت کی جاتی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تبلیغ کریں یا فرقہ وارانہ مباحثوں میں حصہ لیں یا اپنے فرقہ کے لوگوں کی رعایت اور جنبہ داری کریں۔اگر سرکاری کی ملازمین نے اپنی سرکاری حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ہدایات کی خلاف ورزی کی یا اپنے ساتھیوں، ماتحتوں اور بیرونی لوگوں کے خیالات پر اثر انداز ہوئے تو اس کے نتیجہ میں وہ ملازمت سے برطرف کر دیئے جائیں گے۔" ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ قاعدہ صرف سرکاری ملازمین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے عام لوگوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔اور سرکاری ملازمین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں۔آخر دنیا میں گورنمنٹ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے متعلق قانون بنائے۔اور جب لوگ اُس کی ملازمت اختیار کرتے ہیں تو وہ عملاً اُس کے قوانین کی پابندی کا اقرار کرتے ہیں۔پس جب حکومت نے سرکاری ملازمین کے متعلق ایک قاعدہ بنا دیا ہے تو تمام سرکاری ملازمین کو چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کریں۔لیکن اس کا اُن لوگوں سے کیا تعلق ہے جو سرکاری ملازمت میں نہیں۔اُن پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں۔انہیں اپنے فرض کا احساس رکھنا چاہیے اور تبلیغ میں کبھی کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہیے۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تبلیغ بھی اُسی وقت مؤثر ہوگی جب تم دعاؤں سے کام لو گے اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرو گے۔