خطبات محمود (جلد 36) — Page 152
خطبات محمود جلد نمبر 36 152 $1955 ایک ہزار پاؤنڈ بہت کم ہے۔آپ مجھے اجازت دیں کہ میں دو ہزار پاؤنڈ کی سفارش کر دوں۔میں نے کہا آپ دو ہزار لکھیں گے تو ہمیں ایک ہزار بھی نہیں ملے گا۔کیونکہ بالا افسر یہ کہیں گے کہ یہ سفارش کرنے والا کوئی مرزائی ڈاکٹر ہوگا۔اس پر انہوں نے ایک ہزار پاؤنڈ کی ہی سفارش کر دی۔جب ہم کراچی پہنچے تو ڈاکٹر جنرل ہیلتھ سے ملے انہوں نے بھی کہا کہ میں اس رقم کو بڑھا تو دیتا مگر میری سفارش پر مخالفت ہو جائے گی۔اس لیے بہتر یہی ہے آپ اس رقم کو نہ بڑھائیں۔آخر یہ سفارش سٹیٹ بنک کے پاس پہنچی اور اس نے ہمارے لیے صرف پانچ سو پاؤنڈ منظور کئے۔اب پانچ سو پاؤنڈ کی یورپ کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔پہلی جگہ ہی جہاں ہم ٹھہرے وہاں ہم نے ڈاکٹر کو بھی دکھانا تھا اور اُس کی فیسیں وغیرہ ادا کرنی تھیں۔اور پھر وہاں کی رہائش اور کھانے وغیرہ کے اخراجات بھی تھے جن پر گیارہ بارہ سو پاؤنڈ خرچ کا اندازہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ابھی ہم وہاں پہنچے ہی تھے کہ دنیا کے چاروں طرف سے مجھے مخلصین جماعت کے خطوط آنے شروع ہو گئے کہ ہم نے اتنے پاؤنڈ آپ کے حساب میں بنک میں جمع کروا دیئے ہیں۔اس روپیہ کو آپ اپنی ضروریات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ اُس نے جماعتوں میں تحریک پیدا کی اور انہوں نے بنکوں میں میرے نام پر رقوم بھجوانی شروع کر دیں۔پچھلی دفعہ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔یہاں بعض سے قرضے بھی لئے گئے۔لیکن باہر سے ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں روپیہ بھیج دیا جن کا ہم نام بھی نہیں جانتے تھے۔ایک دفعہ عراق سے کسی دوست نے کئی سو پاؤنڈ میرے نام پر بنک میں جمع کروا دیے۔جب مجھے بنک نے اطلاع دی تو پہلے میں نے سمجھا کہ کسی احمدی نے قرض کے طور پر یہ روپیہ بھجوایا ہوگا۔مگر جب وہاں کے احمدیوں سے دریافت کیا گیا تو سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم نے یہ روپیہ نہیں بھجوایا۔آخر اس غیر احمدی دوست کو خط لکھے گئے۔اس نے جواب میں لکھا کہ آپ کو غلطی لگی ہے میں نے کوئی قرض نہیں دیا۔میں نے چھ سو یا آٹھ سو پاؤنڈ جو آپ کو بھجوایا تھا وہ محض نذرانہ کا تھا۔اسی طرح اب کی دفعہ ہوا۔اگر اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہوتی تو وہاں ہمارے گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی اور شاید واپسی ٹکٹوں پر چند دنوں کے بعد ہی ہم پاکستان پہنچ جاتے۔