خطبات محمود (جلد 36) — Page 151
$1955 151 خطبات محمود جلد نمبر 36 چنا نچہ ایسا ہی ہوا۔جونہی میں پاخانہ کے لیے بیٹھا بارش بند ہوگئی۔اس کے بعد جب میں فارغ ہوا اور کمرہ میں آیا تو میں نے دوبارہ کھڑ کی کھول دی۔میرا کھڑکی کو کھولنا تھا کہ یکدم بارش شروع ہوگئی جو آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ تک جاری رہی۔اب دیکھو! بارش میرے اختیار میں نہیں تھی۔مگر خدا نے ایسے سامان کئے کہ ادھر میں کمرہ میں پہنچا اور ادھر بارش شروع ہوگئی۔اسی طرح ایک جماعت نے حضرت خلیفہ اول سے اصرار کر کے مجھے اپنے پاس بلایا۔وہ بڑی مخلص جماعت تھی۔آپ نے جماعت کے اصرار کو دیکھ کر مجھے چند دنوں کے لیے وہاں بھجوا دیا۔جب میں واپس آرہا تھا تو چلتے چلتے کسی آئندہ خرچ کے خیال سے میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک روپیہ کم تھا۔اُس وقت میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ میاں! مجھے ایک پیہ بھیجیں۔ابھی میرے دل سے یہ دعا نکلی ہی تھی کہ قریب کے ایک گاؤں سے ایک آدمی ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔اُس کو دیکھتے ہی جو لوگ میرے ساتھ تھے وہ جلدی سے حفاظت کے لیے میرے اردگرد جمع ہونے لگ گئے۔میں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے یہ ہمارے سلسلہ کا شدید دشمن کی وه ہے اور احمدیوں پر اکثر حملے کرتا رہتا ہے۔ہم آپ کے اردگرد اس لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔جب ہم گاؤں کے قریب پہنچے تو وہ دوڑتا ہوا آیا اور میرے ساتھیوں کو دھگا دے کر آگے بڑھا۔پھر اُس نے ادب کے ساتھ میری طرف ہاتھ بڑھایا اور ایک روپیہ میرے ہاتھ پر رکھ کر چلا گیا۔میں نے کہا آپ لوگ تو کہتے تھے کہ یہ مارنے آیا ہے اور اس نے تو ایک روپیہ نذرانہ کے طور پر دیا ہے۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ ابھی میرے دل میں خیال آیا تھا کہ خدا مجھے ایک روپیہ بھیجے۔سوخدا نے اس شخص کو بھیج دیا اور اس نے مجھے ایک روپیہ نذرانہ کے طور پر دے دیا۔اب بھی میں نے بیماری کے علاج کے لیے یورپ کا سفر اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو میں لاہور گیا۔وہاں سول سرجن صاحب تشریف لائے۔گو میری بیماری کا علاج اور ڈاکٹر کر رہے تھے جو اُن سے بھی بڑے تھے۔مگر قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی بیماری کے علاج کے لیے باہر جانا چاہے تو جب تک سول سرجن تصدیق نہ کرے اُس وقت تک اسے ایکسچینج نہیں مل سکتا۔وہ جب میرے پاس آئے تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ ایک ہزار پاؤنڈ کی سفارش کر دیں۔وہ کہنے لگے