خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 6

$1955 6 خطبات محمود جلد نمبر 36 اور ہم نے ان میں سے ہر خلق کو نہ صرف اپنی ذات میں بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنا ہے۔لیکن اب تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب کیوں نہیں ہوئے ؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اقرار پر قائم نہیں رہتے۔اور تھوڑا بہت کام جو کرتے ہیں اگر وہ نامکمل رہ جاتا ہے یا اس کے بدنتائج نکلتے ہیں تو ہم یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ بدنتائج ہماری وجہ سے نکلے ہیں بلکہ ہم انہیں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ نے تو احمد یہ جماعت کو اس لیے قائم کیا تھا کہ جو کام آسمان پر جاری ہو ہم اُسے زمین پر جاری کریں۔لیکن عملی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کام کرتے ہیں خدا تعالیٰ اسے منسوخ کر دیتا ہے۔ہم بد نتائج کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ان سے بری قرار دیتے ہیں۔گویا ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت بھی ختم ہوگئی ہے، اس کی صفت مالکیت بھی ختم ہو گئی ہے، اس کی صفت رحمانیت بھی ختم ہوگئی ہے ، اس کی صفت رحیمیت بھی ختم ہوگئی ہے، اس کی صفت ستاریت بھی ختم ہو گئی ہے، اس کی صفتِ غفاریت بھی ختم ہو گئی ہے۔اس کی صفت مہیمنیت بھی ختم ہوگئی ہے، اس کی صفت جباریت بھی ختم ہو گئی ہے ، مذہب بھی ختم ہو گیا ہے۔صرف خدا تعالیٰ کی صفت قہاریت باقی رہ گئی ہے۔باقی سب کام اس نے چھوڑ دیئے ہیں کی اب وہ صرف قہار ہی قہار ہے۔اور قہار کے بھی دو معنے ہیں۔سچ کے مقابل پر جھوٹ کو دبا کر بیچ کو اُبھارنے والا اور ذلیل کرنے والا۔لیکن ہمارے زمانے میں وہ صرف ذلیل کرنے والا ہی ہے جی غالب کرنے والا نہیں۔اگر تم یہ چیز سمجھ لو کہ تمہاری محنت اور قربانی سے ہی اعلیٰ نتائج نکلیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری یہ ساری حالت بدل جائیگی۔پس تم خوب سمجھ لو کہ محنت اور قربانی کے بغیر خدا تعالیٰ کی مدد نہیں آئیگی۔اور تم خوب سمجھ لو کہ اگر تم سچی محنت کرو گے تو اس کا اعلیٰ نتیجہ نکلے گا۔اگر تمہارے کام کا اعلیٰ نتیجہ نہیں نکلتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔یا پھر تم احمق ہو۔قرآن کریم نے اس کی مثال یہ دی ہے کہ کوئی عورت سارا دن محنت سے سوت کا تا کرتی تھی۔لیکن بعد میں وہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھی 3۔دراصل یہ ایک واقعہ ہے جو عرب میں مشہور تھا۔قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے۔عرب میں یہ واقعہ مشہور تھا کہ کوئی پاگل عورت تھی وہ سوت کا تا کرتی تھی تا اس سے گاؤں والوں کی مدد کر سکے۔اس کے سوت کاتنے کے دوران میں