خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 135

خطبات محمود جلد نمبر 36 135 $1955 جائے گی اور مکان مکمل ہو جائے گا تو آجائیں گے۔ڈاکٹروں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ میں ایسی جگہ رہوں جہاں معتدل آب و ہوا ہو یعنی نہ گرمی زیادہ ہو اور نہ ٹھنڈک زیادہ ہو۔اس وجہ سے شاید اگلی گرمیوں کے شروع میں میں یہاں آجاؤں اور شاید اُس وقت تک بجلی وغیرہ بھی لگ جائے اور مکان کے باقی نقائص بھی دور ہو جائیں۔یوں ولایت کے ڈاکٹروں کا مشورہ یہی تھا کہ مجھے اپنا مقررہ کام اب کچھ نہ کچھ شروع کر دینا چاہیے۔کیونکہ کام کے چھوڑنے کی وجہ سے بھی طبیعت پر اثر پڑتا ہے۔بیماری ابھی دور نہیں ہوئی۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ صرف اتنا کام کریں کہ تھکیں نہیں۔یہاں کے مشہور فزیشن کرنل شاہ آج مجھے ملنے آئے اور انہوں نے میرا حال پوچھا۔تو میں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں آرام کروں مگر یہ نہیں بتایا کہ تمکن کس کو کہتے ہیں۔اس وجہ سے طبیعت میں ہمیشہ گھبراہٹ رہتی ہے کہ معلوم نہیں میں تھک گیا ہوں یا نہیں تھکا ؟ اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل ہوا ہے یا نہیں ہوا ؟ وہ کہنے لگے اصل بات یہ ہے کہ مغربی نقطہ نگاہ اور ہے اور آپ کا نقطہ نگاہ اور ہے۔مغرب میں لوگ جتنا کام کرتے ہیں صرف روٹی کمانے کے لیے کرتے ہیں۔اس لیے تھوڑی دیر کام کرنے کے بعد اُن کی طبیعت اکتا جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کچھ دیر آرام کر لیں۔لیکن آپ کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ میں اس لیے کام کرتا ہوں کہ میرے خدا کی طرف سے مجھ پر ایک فرض عاید کیا گیا ہے۔پس آپ جتنا بھی کام کریں آپ کو اتنی ہی خوشی اور لذت محسوس ہوگی اور اُتنی ہی راحت معلوم ہوگی۔پس انہوں نے آپ کو جو کچھ کہا ہے اپنے نقطہ نگاہ سے کہا ہے آپ کے نقطہ نگاہ سے نہیں۔آپ کے نقطہ نگاہ سے آپ کو اپنے کام میں خوشی محسوس ہوتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے خدا کی رضا اور اُس کی خوشنودی کے لیے یہ کام کیا ہے۔اس لیے اس کام کے نتیجہ میں آپ کو وہ تھکاوٹ نہیں ہو سکتی جو مغربی لوگ اپنی روٹی کے لیے کام کرتے وقت تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد محسوس کرتے ہیں۔ہاں ! اگر آپ واقع میں محسوس کریں کہ آپ جسمانی پر تھک گئے ہیں تو کام چھوڑ دیں۔ورنہ کام کرنا آپ کے لیے مضر نہیں بلکہ مفید ہے۔جب تک جسمانی طور پر آپ کو کوفت محسوس نہ ہو آپ بے شک کام کریں کیونکہ اس کے نتیجہ میں آپ کے اندر بشاشت پیدا ہوگی۔اُن کی بات چونکہ معقول تھی اس لیے میری سمجھ میں آگئی۔ورنہ پہلے طور