خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 134

$1955 134 خطبات محمود جلد نمبر 36 چند دن اور ٹھہر جاتا تا کہ وہاں گرمی کم ہو جاتی۔مگر اس میں ہمارے دوستوں کا قصور نہیں۔یہ محض حالات کا نتیجہ ہے۔اس مکان میں ابھی تک بجلی نہیں لگ سکی کیونکہ کھمبے کافی دُور ہیں۔اس وجہ سے شام کو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہمیں کال کوٹھڑیوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ان حالات میں جانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور ڈر آتا ہے کہ کہیں پھر بیمار نہ ہو جاؤں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رات کو خوب ٹھنڈک ہوتی ہے۔مگر اندھیرے کی وجہ سے ڈر آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہاں رہنے سے پھر تکلیف بڑھ جائے۔ہم نے ہری کین 1 رکھے ہوئے ہیں۔مگر چار مہینے یورپ میں گزارنے کے بعد اور اس وجہ سے کہ ربوہ میں بھی بجلی آچکی ہے اندھیرا اعصاب پر بُرا اثر ڈالتا ہے۔اور شام کے وقت کوفت ہونی شروع ہو جاتی ہے۔یوں خدا تعالیٰ کے فضل سے مکان آرام دہ ہے اور پانی بھی جماعت کے دوست ہمت کر کے کسی نہ کسی طرح ٹرک کے ذریعہ پہنچا دیتے ہیں۔شیخ عبدالحق صاحب نے بڑی قربانی کر کے جماعت کے دوستوں کے ساتھ مل کر جس میں بڑا حصہ میجر شمیم احمد صاحب کا ہے مکان تیار کر وا دیا ہے۔لیکن ابھی شور سے مکان میں گونج پیدا ہو جاتی ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔یورپ میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ جہاں شور ہوتا تھا وہاں میری طبیعت خراب ہو جاتی تھی۔اب بھی کھانا کھانے یا چائے پینے بیٹھیں اور کوئی بچہ پرچ میں پیالی رکھے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی نے سر میں ہتھوڑا مارا ہے۔ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یہ نقص آہستہ آہستہ دور ہو جائے گا لیکن بہر حال ابھی تک طبیعت میں ایسی کمزوری باقی ہے کہ شور برداشت نہیں ہوسکتا۔اسی طرح کئی آدمی مل کر بولیں تو بات سمجھ میں نہیں آتی۔ایک آدمی بولے تو بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے۔شروع شروع میں چونکہ میری طبیعت میں وہم زیادہ تھا اس لیے مجھے ڈر محسوس ہونے لگا کہ میرے کانوں میں کوئی نقص نہ پیدا ہو گیا ہو۔چنانچہ ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر واقع میں کانوں میں کوئی نقص ہوتا تو ایک آدمی کی بات آپ کیوں سمجھ لیتے۔ایک آدمی کی بات سمجھ لینا بتا تا ہے کہ آپ کے کانوں میں کوئی نقص نہیں۔باقی زیادہ آدمی بولیں تو چونکہ ہر آدمی کی آواز ابھی امتیازی طور پر آپ الگ محسوس نہیں کر سکتے اس لیے آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ سر دست ہم واپس چلے جائیں۔پھر جب بجلی لگ