خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 106

خطبات محمود جلد نمبر 36 106 $1955 سورۃ اخلاص بھی ان تین سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ سورۃ فاتحہ کے مضمون کو ہی دُہراتی ہیں۔جس طرح سورۃ فاتحہ سارے قرآن کا خلاصہ ہے اسی طرح ان تین سورتوں میں بھی قرآن کریم کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔مضمون بہت لمبا ہے میں ایک ایک بات بیان نہیں کر سکتا ورنہ اگر اس مضمون کو مفصل طور پر لکھا جائے تو چھ سات سو صفحات میں آئے گا۔میں بیماری کی وجہ سے معذور ہوں اس لیے چاہتا ہوں کہ جو باتیں رہ گئی ہیں وہ نکات اختصار کے ساتھ ہی بیان کر دوں۔رسول کریم اللہ نے قرآن کریم کی بعض سورتوں کی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔آیت الکرسی کے متعلق فرمایا کہ وہ قرآن کریم کا کو ہان ہے 1۔بعض سورتوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ قرآن کریم کا چوتھا حصہ ہیں۔سورۃ اخلاص کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ قرآن کا تیسرا حصہ ہے 2۔علماء نے اس بارے میں بہت بحث کی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی سورتیں ایسے وسیع مضامین پر مشتمل ہوں۔ہر ایک نے اس بارے میں مختلف ذوقی وجوہات بیان کی ہیں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے ساتھ سب سے زیادہ ٹکر اور سب سے لمبی ٹکر عیسائیت نے لینی تھی۔اس لئے قرآن کریم میں عیسائیت کے غلط عقائد کی تردید پر زور دیا گیا ہے اور ان کے صحیح عقائد کی تشریح کی گئی ہے۔عیسائیت تین خداؤں کی قائل ہے۔ایک خدا باپ ، دوسرا خدا بیٹا اور تیسرا خداروح القدس۔قرآن کریم بھرا ہوا ہے خدا باپ کی تعریف سے، خدا باپ کے رب ہونے کی تائید سے اور خدا باپ کے ایک ہونے کی تائید سے۔قرآن کریم بھرا ہوا ہے خدا بیٹے کی تردید کی سے اور خدا روح القدس کی تردید سے۔قرآن کریم نے خدا باپ کی خدائی کو قائم کیا ہے اور خدا بیٹے اور خدا روح القدس کی تردید کی ہے۔اس لیے یہ صاف بات ہے کہ چونکہ خدا باپ کی تائید قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے اس لیے سورۃ اخلاص بھی قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہوگی۔یہ سوال نہیں کہ سارے قرآن کی اتنی آیتیں ہیں اور سورۃ اخلاص کی اتنی ہیں۔پس جو سورۃ خدا باپ کی وحدانیت کو قائم کرتی ہے اور خدا بیٹے اور خدا روح القدس کی تردید کرتی ہے وہ قرآن کا مثلث ہوگی۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ 3 میں هُوَ ” وہ “ کے معنوں میں نہیں ہے۔کیونکہ وہ “ کے معنے تب ہوتے ہیں جب ٹھو سے پہلے کسی ایسی چیز کا ذکر ہو جس کا وہ قائم مقام ہو۔"