خطبات محمود (جلد 35) — Page 47
$1954 47 خطبات محمود تو اس کے متعلق Crashed “ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا۔گاڑی پٹرول کے ڈبوں سے ٹکراگئی اور ایسا خطرناک حادثہ پیش آیا کہ ایک احمدی دوست نے مجھے لکھا کہ میں سمجھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا عذاب آ گیا ہے۔ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں کوئی اور احمدی بھی سفر کر رہا تھا لیکن اُس کے خط سے معلوم ہوا کہ وہ بھی اُس ٹرین میں تھا اور اس نے لکھا کہ ہر وہ شخص جس نے اس نظارہ کو دیکھا ہے وہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ حادثہ عذاب الہی نہیں تھا۔بہر حال دونوں گاڑیاں ٹکرا گئیں اور جن ڈبوں کو خدا تعالیٰ نے آگ سے بچایا انہیں پیچھے لایا گیا۔جس جگہ پر واقعہ ہوا چودھری صاحب کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس سے دس دس میل دور تک پکی سڑک نہیں ہے صرف ریل کی پٹڑی گزرتی ہے۔اس لیے امداد کے لیے اُس جگہ تک کوئی موٹر نہیں آسکتی تھی۔اس طرح وہ جگہ جزیرے کی طرح تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ رویا میں ہوائی جہاز کا دکھایا جانا اور واقعہ ریل میں ہونا اور پھر یہ گاڑی بھی مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی ، اسی کی طرح دوسری سب باتوں کا ہونا بتاتا ہے کہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی لیکن خدا تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کوسن کر اس حادثہ کو بجائے ہوائی جہاز کے ریل میں بدل دیا۔ہوائی جہاز میں ایسا حادثہ پیش آ جائے تو اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔شاذ ہی کوئی شخص اس قسم کے حادثے سے بچتا ہے لیکن یہی حادثہ ریل میں پیش آ جائے تو اس سے کسی انسان کا بچ جانا ممکن ہے اور پھر وہ ریل مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی۔جب میں نے اخبار میں وہ واقعہ پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہو گئی ہے۔میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے اس کا ذکر کیا جن کو میں یہ خواب اُسی وقت بتا چکا تھا جب یہ خواب آئی تھی۔انہوں نے بھی کہا کہ واقع میں وہ خواب پوری ہوئی ہے لیکن میں نے اخبار میں یہ واقعہ پڑھ کر چودھری صاحب کو یہ لکھنا پسند نہ کی کیا کہ میری رویا پوری ہو گئی ہے۔کیونکہ رویا میں انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی۔اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ وہ اطلاع دیں گے تو میں لکھوں گا۔چنانچہ دوسرے دن چودھری صاحب کی تار آ گئی کہ آپ کی رؤیا پوری ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس حادثہ سے بچا لیا ہے۔یہاں صرف رؤیا کا سوال نہیں کہ وہ پوری ہو گئی بلکہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی جو دعاؤں بدل گئی۔رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے ہوائی جہاز دکھایا تھا لیکن وہ واقعہ اُسی جہت میں