خطبات محمود (جلد 35) — Page 46
$1954 46 خطبات محمود ہے۔رہے تھے شاید انہیں کوئی حادثہ پیش آ جائے۔میں نے ملک اور محمد کے الفا ظ دیکھے تھے۔بیچ میں ایک لفظ اور بھی تھا جو پڑھا نہیں گیا۔میں نے خیال کیا کہ شاید اس سے ملک غلام محمد صاحب مراد ہوں کیونکہ ان کے نام سے پہلے بھی ملک اور آخر میں محمد کا لفظ آتا ہے اور وہ چودھری صاحب کے دوست بھی ہیں اور دوست کا صدمہ خود انسان کا اپنا صدمہ کہلاتا ہے چنانچہ میں نے صبح انہیں تار دے دی۔چونکہ وہ احمدی نہیں ہیں۔اس لیے میں نے یہ نہ لکھا کہ میں نے رؤیا دیکھی ہے بلکہ صرف یہ لکھا کہ آپ سفر پر جا رہے ہیں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس سفر کے دوران میں آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے لیکن میرا تار پہنچنے سے پہلے ملک صاحب سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔وہ تار قائم مقام گورنر جنرل کو ملا اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ مبارکبادی کی تار ہے چنانچہ اُن کی طرف سے شکریہ کی چٹھی آگئی۔حالانکہ وہ تار اس رؤیا کی بناء پر اصل گورنر جنرل صاحب کو دی گئی تھی لیکن وہ ملی قائم مقام گورنر جنرل کو۔تیسرے چونکہ چودھری صاحب مغرب میں پہنچ چکے تھے اور پاکستان کی طرف سفر کرتے ہوئے نہوں نے مغرب سے مشرق کو آنا تھا اور پھر اس حادثہ کی خبر بھی انہوں نے خود ہی دی تھی اس لیے میں نے خیال کیا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ جو خاص کام مراکو وغیرہ کی خدمت کا وہ کر رہے ہیں اس میں انہیں ناکامی ہو۔بہر حال میں نے ایک بکرا بطور صدقہ ذبح کروا دیا اور چودھری صاحب کو بھی خط لکھا کہ وہ خود بھی صدقہ دے دیں۔چنانچہ انہوں نے بھی صدقہ دے دیا اور ہم نے دعائیں جاری کی رکھیں۔میں لاہور گیا تو چودھری صاحب کی بیوی مجھے ملیں۔میں نے انہیں بھی بتایا کہ میں نے اس قسم کی رؤیا دیکھی ہے چونکہ چودھری صاحب کی لڑکی بھی اِس سفر میں اُن کے ہمراہ تھی اس لیے اُن کے لیے دُہرا صدمہ تھا۔اس لیے انہوں نے بھی اس عرصہ میں روزانہ ایک ایک کر ނ کے یا بعض دنوں میں دو دو کر کے اکسٹھ بکرے صدقہ دیئے۔چودھری صاحب خیریت کراچی پہنچ گئے اور اس قسم کا کوئی حادثہ انہیں پیش نہ آیا۔کراچی سے پنجاب آئے تو یہ سفر بھی خیریت سے گزر گیا۔لیکن جب کراچی واپس گئے تو رستہ میں اُس گاڑی کو جس میں چودھری صاحب سفر کر رہے تھے خطرناک حادثہ پیش آیا اور انڈین ریڈیو پر جب یہ خبر نشر ہوئی