خطبات محمود (جلد 35) — Page 434
$1954 434 خطبات محمود دنیا سے بالکل منہ نہ موڑ لیا جائے۔لیکن ہوا یہ کہ ایک فریق تو خالص دنیا ساتھ لے گیا اور ی ایک فریق نے خالص دین لے لیا اور انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اگر دنیا میں خالص دین ہوتا تو اوی خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتا کہ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا 1 کہ جوشخص استطاعت رکھے وہ حج کرے۔پھر زکوۃ کے متعلق کیوں فرمایا کہ جس شخص کے پاس اس قدر رقم ہو وہ زکوۃ دے۔پھر یہ کیوں کہا کہ اگر تمہارے پاس مال ہو تو تم جہاد اور غریبوں کی ترقی کے لیے خرچ کرو۔دراصل خدا تعالیٰ اس قسم کے احکام دے کر اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تم دین کے ساتھ ساتھ اپنے پاس مال بھی رکھو۔پھر اگر خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ صرف دین لیا جائے ، دنیا سے منہ موڑ لیا جائے تو وہ یہ کیوں فرماتا کہ اگر تم نے عورتوں کو ڈھیروں ڈھیر سونا بھی دیا ہو تو اُن سے واپس نہ لو 2 اگر مال اپنے پاس رکھنا ہی نہیں تو دینا کہاں سے ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے لوگوں کے لیے نمونہ کے طور پر پیدا کیا ہوتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہی سنا ہے کہ کسی نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ کتنے روپوں پر زکوۃ فرض ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لیے یہ مسئلہ ہے کہ تم چالیس روپیہ میں سے ایک روپیہ زکوۃ دو۔اُس نے کہا ”تمہارے لیے کا کیا مطلب ہے؟ کیا زکوۃ کا مسئلہ بدلتا رہتا ہے؟ انہوں نے کہ ہاں تمہارے پاس چالیس روپے ہوں تو اُن میں سے ایک روپیہ زکوۃ دینا تمہارے لیے ضروری ہے۔لیکن اگر میرے پاس چالیس روپے ہوں تو مجھ پر اکتالیس روپے دینے لازم ہیں۔کیونکہ تمہارا مقام ایسا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کماؤ اور کھاؤ لیکن مجھے و مقام دیا ہے کہ میرے اخراجات کا وہ آپ کفیل ہے۔اگر بیوقوفی سے میں چالیس روپے جمع کر لوں تو میں وہ چالیس روپے بھی دوں گا اور ایک روپیہ جرمانہ بھی دوں گا۔غرض بعض لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صرف دین کی طرف اپنی توجہ رکھیں لیکن باقی سب دنیا کا یہی مقام ہے کہ وہ دنیا کمائیں اور اپنے وقت کا کچھ حصہ مناسب نسبت کے ساتھ عبادت اور دین کے کاموں میں بھی لگائیں۔وہ ذکر الہی کریں، وظائف کریں، تہجد پڑھیں، استغفار اور دعاؤں سے کام لیں۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کی طرف بھی توجہ رکھے۔وہ