خطبات محمود (جلد 35) — Page 417
$1954 417 خطبات محمود اس کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔وہ محض اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں کہ ان بچپن سے اُن کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ دنیا اور انسانیت کے بدترین دشمن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اس بغض کو نکالنا آسان بات نہیں۔اس کے لیے بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔جو یور بین لوگ مسلمان بھی ہو جاتے ہیں اُن کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیح علیہ السلام سے افضل ہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ نے ? شان عطا فرمائی ہے وہ مسیح علیہ السلام کو عطا نہیں فرمائی۔پتھر کی لکیر کا بدلنا آسان ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی کو اُن کے ذہنوں سے نکالنا بہت مشکل ہے۔اس کے لیے جتنی قربانی بھی کی جائے کم ہے۔پس تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو اور اپنی قربانی کو اس کے مطابق بناؤ۔تا تمہارے کاموں میں برکت ہو۔جو مدعا اور مقصد تم نے اپنے سامنے رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ کسی ملک مبلغ بھیج دیا تو کام ہو گیا لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ اُس کے پاس تبلیغ کے لیے کتنا وقت ہے۔اتنے وسیع ملک میں وہ اکیلا کیا کر سکتا ہے۔مثلاً امریکہ کی آبادی سولہ کروڑ کی ہے اور وہاں ہمارے صرف چار مبلغ ہیں۔اب چار کروڑ میں ایک مبلغ کیا کر سکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں کوئی دیہاتی مبلغ بھیجا جاتا ہے اور پھر اُسے کسی اور گاؤں میں بھیجا جاتا ہے تو گاؤں والے شور مچا دیتے ہیں کہ ہمیں مبلغ کی ضرورت تھی اسے واپس کیوں بلایا گیا حالانکہ اُس گاؤں کی آبادی چار پانچ سو ہوتی ہے۔پھر تم چار کروڑ میں ایک مبلغ بھیج کر کیسے خوش ہو جاتے ہو۔چار کروڑ میں ایک مبلغ تب ہی کوئی مفید کام کر سکتا ہے جب وہ ایک سے دو ہو جائیں، دو سے چار ہو جائیں، چار سے آٹھ ہو جائیں، آٹھ سے سولہ ہو جائیں، سولہ۔ہے۔ނ ہو بتیس ہو جائیں، بتیس سے چونسٹھ ہو جائیں اور چونسٹھ سے سو ہو جائیں اور سو سے دوسو جائیں۔تب تو ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی حرکت پیدا ہو گی اور چاہے نتیجہ زیادہ شاندار نہ ہو لیکن لوگ یہ تو سمجھیں گے کہ جماعت اشاعت اور ترقی اسلام کے لیے قربانی کر رہی ہے۔لیکن اصل کام ہم تبھی کر سکتے ہیں جب ہمارے پاس کافی تعداد میں لٹریچر ؟ ہو۔