خطبات محمود (جلد 35) — Page 416
$1954 416 خطبات محمود اس سے بات کرنے کا وعدہ کیا ہوا تھا اس لیے میں اُسے برداشت کر گیا۔لیکن دو چار فقروں کے بعد اُس نے دوبارہ آپ کی ذات پر حملہ کیا۔میں نے اُسے توجہ دلائی کہ تم نے یہ کہہ کر کی ملاقات کا وقت لیا تھا کہ تمہارا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تم صرف عقلی گفتگو کرنا چاہتے ہو لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ تم بلا وجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرتے ہو۔یہ بات ٹھیک نہیں۔اُس شخص نے میری اس بات کا جواب نہ دیا لیکن دوچار باتوں کے بعد اس نے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کیا۔میں یہ جانتا تھا کہ اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی نفرت نہیں لیکن آپ کے جو حالات اس نے پڑھے ہیں اُن سے اُس نے سمجھ لیا ہے کہ آپ انسانیت کو گرانے والے ہیں۔اس کے رویہ کو دیکھ کر مجھے بھی غصہ آ گیا اور میں نے جوابی طور پر مسیح ناصری پر حملہ کیا۔میں نے دیکھا کہ اُس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میں مسیح کے متعلق یہ باتیں نہیں سن سکتا۔میں نے کہا تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی تم مسیح کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔تو کیا میں ہی اتنا بے غیرت ہوں کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے کرتے جاؤ اور میں خاموش رہوں؟ میں نے دو دفعہ تمہیں توجہ دلائی کہ تم مذہب کی ضرورت کے متعلق بات کرو۔بار بار بانی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے نہ کرو۔لیکن چونکہ تم حملہ کرنے سے باز نہیں آئے اس لیے میں نے سمجھ لیا کہ عیسائی مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد تم سمجھتے ہو کہ مسیح انسانیت کے ہمدرد تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ انسانیت کے بڑے دشمن ہیں۔وہ کہنے لگا کچھ ہو میں مسیح کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔میں نے کہا اگر تم دہر یہ ہو کر مسیح علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے تو میں مسلمان ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف باتیں کیوں سنوں ؟ اگر تم نے دوبارہ میرے آقا کی شان میں کوئی نازیبا لفظ استعمال کیا تو میں بڑی سختی سے تمہارے مسیح پر حملہ کروں گا۔اس پر اُس نے بات ختم کر دی اور چلا گیا۔اس واقعہ سے تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ لوگ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی سے بھرے ہوئے ہیں جنہیں عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں۔وہ دہر یہ ہیں اور مذہب سے