خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 30

$1954 50 30 خطبات محمود کی صفات کو بیان کرنے والا ہے۔جو شخص اس دین کی اشاعت کے لیے کوشش نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کو دنیا میں زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔گویا خدا تعالیٰ کا وجود اسلام کے ذریعہ آتا ہے۔جو شخص اسلام کو زندہ کرتا ہے وہ دنیا کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کو زندہ نہیں کرتا وہ دنیا کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کو مارتا ہے۔خدا تعالیٰ تو ہر وقت عرش ہے موجود ہے اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے وہ زندہ بھی ہوتا ہے اور مرتا بھی ہے۔جب لوگوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہٹ جائے اور اُس کی طرف اُن کا دھیان نہ رہے تو اُن کے لیے خدا تعالیٰ مرا ہوا ہو گا۔اور جب لوگوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو تو اُن کے لیے خدا تعالیٰ زندہ ہو گا۔غرض اسلام کی اشاعت میں ہی خدا تعالی کی زندگی ہے اور اس کی اشاعت کو ترک کرنا گویا خدا تعالیٰ کی موت ہے۔پس جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ لیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ نہیں لیتا خدا تعالیٰ کی زندگی سے لا پروا ہے۔اس کا یہ امید رکھنا کہ خدا تعالیٰ اسے زندہ رکھے گا بیوقوفی کی بات ہے۔آخر یہ ایک سودا ہے جو تم نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے۔اگر تم اپنا حصہ پورا ادا نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ اپنا حصہ کیوں پورا کرے؟ میں نے تم پر واضح کر دیا تھا کہ تبلیغ اسلام ہمیشہ کے لیے ہے۔اس لیے اگر میرے منہ سے 19 کا لفظ نکل گیا تو کیا تم یہ کہو گے کہ اب تبلیغ اسلام نہیں کی جائے گی؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے بھی اسی قسم کی ایک بات کہی۔مدینہ آنے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ مکہ کے لوگ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اُن کی مسلمانوں سے لڑائیاں ہوں گی۔اس لیے جب انصار مدینہ نے آپ کے سامنے یہ بات پیش کی کہ آپ مدینہ تشریف لے چلیں اور آپ نے وہاں جانا منظور کر لیا تو آپ نے فرمایا میں جب مدینہ آ جاؤں گا تو تمہارا کام ہو گا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو تو تم دشمن کا مقابلہ کرو اور اگر لڑائی مدینہ سے باہر ہو تو دشمن کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہو گی۔اب یہ ایک احتمالی بات تھی یقینی نہیں تھی اور چونکہ یہ ایک دُور کا خیال تھا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر کا خیال نہیں کیا اور مدینہ والوں نے