خطبات محمود (جلد 35) — Page 385
$1954 385 خطبات محمود کہ میں سنگا پور سے آیا ہوں۔وہاں آپ کے مبلغ کام کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ انہیں اچھا کھانا اور اچھا لباس نہیں مل رہا۔وہ فقیروں کی طرح رہتے ہیں۔میں احمدی تو نہیں لیکن اُن کی کمی حالت دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ آپ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔اگر آپ وہاں کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مبلغوں کو اچھا کھانا اور اچھا لباس تو مہیا کریں۔اس شکایت کرنے والے دوست کو تو ہمارے مبلغین کا ظاہری لباس اور ظاہری کھانا نظر آیا اور مجھے یہ فکر ہے کہ ہم اپنے مبلغین کو باطنی کھانا بھی مہیا نہیں کر رہے۔ہمارے ہر مبلغ کے پاس سینکڑوں کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری ہونی چاہیے تا کہ وہ ایک وقت میں سو دو سو آدمیوں کو مطالعہ کے لیے کتب دے سکے۔بلکہ پوری طرح توجہ دلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک ایک کتاب کے دس دس پندرہ پندرہ نسخے ہوں تا ایک ہی وقت میں ایک کتاب سے ایک زیادہ آدمی فائدہ اُٹھا سکیں۔اگر ہرمشن میں سو کتابیں ہوں اور ان کے پندرہ پندرہ نسخے ہوں و پندرہ سو کتاب تو یہی بن جاتی ہے۔پھر کئی لوگ ایسے آ جاتے ہیں جو تفسیر، حدیث یا کسی اور مضمون کی کتاب لینا چاہتے ہیں۔اس لیے اگر ہم صحیح طور پر کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہمارے ہر مبلغ کے پاس دو تین ہزار کتب کی لائبریری ہو۔جو شخص ملنے کے لیے آتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے گا اور باتیں سنے گا اور پھر چلا جائے گا لیکن اگر ہم اسے کوئی کتاب دے دیں تو وہ گھر میں بھی اسے پڑھتا رہے گا اور اس طرح تبلیغ سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکے گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ سرحد کے ایک رئیس خان فقیر محمد خاں صاحب آف چار سده مرحوم ایگزیکٹو انجنیئر (بعد میں وہ سپرنٹنڈنٹ انجنیئر ہو گئے ) ایک دفعہ مجھے دہلی میں ملے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ میرے بھائی محمد اکرم خاں صاحب احمدی ہیں۔میں سیر کے لیے انگلستان جا رہا ہوں۔انہوں نے چلتے چلتے بعض کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی ہیں۔میری ایک لڑکی کی منگنی ان کے لڑکے سے ہوئی ہے۔ویسے بھی مجھے ان کا بڑا ادب۔کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں۔میں نے انہیں کہا آپ نے کیا کیا ہے؟ میں تو سیر کے لیے جا رہا ہوں۔ان کتابوں کے پڑھنے کا کہاں موقع ہو گا۔مگر وہ مانے نہیں اور کہا کہیں خیال آیا گا۔