خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 384

$1954 384 خطبات محمود اعتراض کر سکے اور پھر اُس کا جواب نہ دیا جا سکے۔پس تم نے ترقی کی طرف ایک قدم اُٹھایا ای ہے۔بیج تمہارے پاس ہے جو بویا گیا ہے اور پھر وہ زمانہ تمہیں ملا ہے جس میں تمہاری ترقی لازمی ہے۔جس طرح پانچ چھ سال کا بچہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے بڑھنا نہیں باوجود اس کے کہ اُس کا ارادہ شامل نہیں ہوتا پھر بھی وہ بڑھتا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے تمہارے اندر ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ تم نے بہر حال بڑھنا ہے۔چاہے تمہارا ارادہ اور عزم ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔پھر جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ پانچ چھ سال کے بچہ کا لباس آٹھ نو سال کی عمر کے بچہ کو پورا آسکے اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ تمہارے پچھلے سال کا چندہ اگلے سال کے لیے کافی ہو۔جب تک تم پہلے سے زیادہ قربانی نہیں کرو گے، جب تک تم اپنے چندے کو پہلے سالوں سے زیادہ نہیں بڑھاؤ گے، جب تک تم چندہ دینے والوں کی تعداد ہر سال بڑھاتے نہیں جاؤ گے تمہارا لباس تمہارے جسم پر بے جوڑ معلوم ہو گا۔اگر کوئی لمبا شخص کسی چھوٹے بچے کا لباس پہننا چاہے تو اول تو وہ پہنتے پہنتے پھٹ جائے گا اور اگر وہ کسی طرح اُس کو بہن بھی لے تو وہ صرف ناف تک یا اس کے اوپر تک آئے گا باقی جسم نگا رہ جائے گا۔اسی طرح تمہارے ساتھ ہو گا۔اگر تمہاری شہرت کے مقابلہ میں تمہارا کام اور تمہارا چندہ کم ہو تو سب دیکھنے والوں کو تمہارا یہ عیب نظر آئے گا۔تمہارا کام آج ہر قوم کے سامنے ہے۔جس طرح ایک گرتا قد کے برابر نہ ہو تو وہ ہر شخص کو بُرا نظر آتا ہے۔اسی طرح اگر تمہاری قربانی اور تمہارے چندے تمہارے کام کی نسبت سے تھوڑے ہوں گے تو تمہارا یہ عیب ہر شخص کو نظر آئے گا۔کوئٹہ میں ایک فوجی افسر میرے پاس آیا اور اس نے کہا میں ایک جگہ پر گیا۔وہاں آپ کی جماعت کا ایک مبلغ تھا اور وہ بہت اچھا کام کر رہا تھا لیکن میں نے دیکھا ہے، نہ اُسے اچھا لباس میسر تھا اور نہ اچھا کھانا ملتا تھا اور اُسے ہر بڑے شخص سے ملنا پڑتا تھا۔اگر آپ اُسے اچھا لباس مہیا نہیں کر سکتے اور اسے اچھا کھانا نہیں دے سکتے تو وہ تبلیغ کا کام کیسے کرے گا؟ ایک شخص نے اس سے پہلے بھی مجھے لکھا تھا (شاید یہ وہی شخص تھا جو بعد میں مجھے کوئٹہ میں ملا)