خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 370

$1954 370 خطبات محمود اور بیرون پاکستان کی وصولی اس میں بالکل ہی کم ہے یعنی قریباً دس فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ بیرون پاکستان کے وعدوں کے پورا ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور پھر یہاں پہنچنے میں بھی کچھ وقت لگ جاتا ہے۔غرض دفتر دوم کے گل عدے ایک لاکھ بانوے ہزار تین سو چھیالیس کے تھے اور وصولی اٹھاسی ہزار ایک سوسولہ کی ہوئی ہے۔اگر دونوں دفتروں کے وعدے سو فیصدی وصول ہو جائیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ستر ہزار روپے کی رقم ریز روفنڈ کے لیے بچ جائے گی بشرطیکہ دونوں کے وعدے سو فیصدی وصول کرائے جائیں اور دونوں کو خرچ کر لیا جائے۔حالانکہ دفتر دوم کے متعلق یہ خیال تھا کہ یہ سارے کا سارا ریز روفنڈ میں جائے۔اگر پہلے قرضے اُتر جائیں تو نئے سرے سے قرض لیا جا سکتا ہے لیکن اگر پہلے قرضے ہی باقی ہوں تو نیا قرض نہیں لیا جا سکتا۔پس میں نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ جماعت سستی دور کرے۔یہ نہ کرے کہ چپ کر کے بیٹھ جائے بلکہ بقائے وصول کر نے کی پوری کوشش کرے۔کراچی کو میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بقائے بھی وصول کرے گی اور اب بھی کوشش کر رہی ہے۔چنانچہ انہوں نے اگلے سال کے بھی گیارہ ہزار روپے وصول کر لیے ہیں۔جماعتوں کو چاہیے کہ وہ بڑھ چڑھ کر وعدے کریں اور پھر ان کی وصولی کی طرف بھی توجہ کریں۔بالخصوص میں خدام کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ نئی پارٹی جو آئی ہے وہ سست ہے۔اول تو نو جوان وعدے کم کرتے ہیں اور پھر وصولی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ نوجوانوں کو زیادہ چُست ہونا چاہیے تھا۔نو جوانوں پر پژمردگی نہیں ہوتی اور نہ اُن پر خاندان کا بوجھ ہوتا ہے۔انہیں دلیری سے وعدے کرنے چاہییں اور پھر انہیں پورا بھی دلیری سے کرنا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو سستی واقع ہو رہی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ نوجوانوں میں بعض نقائص پائے جاتے ہیں۔مثلاً سینما دیکھنا ہے، سگریٹ نوشی ہے اور چونکہ ان عادتوں پر خرچ زیادہ ہوتا ہے اس لیے وہ ان تحریکوں میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔اس لیے خدام کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہیے اور انہیں چاہیے کہ وہ اب کے بوجھ کو اُٹھانے کی