خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 342

$1954 342 خطبات محمود نہیں ہونی چاہیے۔اب تک کوئی جماعت ایسی پیدا نہیں ہوئی جس میں کمزوریاں اور نقائص : ہوں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ انسان ایک وقت ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی نہ غیرت ہمیشہ اُسے دین کی طرف لے جاتی ہے اور یہ مومن کی علامت ہے۔اس کے مقابلہ میں کوئی انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ لالچ میں آکر دین کو چھوڑ دیتا ہے اور یہ کفر کی علامت ہوتی ہے۔بہر حال کمزوریوں کے باوجود ایک سچا مومن ایسے مقام پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیا کے عہدے اور اُس کی عظمت اور شان اُس کے سامنے بالکل بیچ ہو جاتی ہے۔بیشک اس سے آگے بھی کمال کے درجے ہیں لیکن بشاشت ایمان کی یہ علامت ہے کہ جب کوئی انسان یہ دیکھ رہا ہو کہ اب دین بدنام ہو رہا ہے اور اس کے لیے اُس کی قربانی کی ضرورت ہے تو وہ ہر قسم کی قربانی کر کے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے۔اس وقت اسلام پر ایک نازک وقت ہے اور اسے اچھے کارکنوں کی سخت ضرورت ہے۔اگر ہماری جماعت میں اس کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا نہ ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ انہیں بشاشت ایمان حاصل نہیں یہ بھی یاد رکھو کہ ہر انسان اپنے اپنے ذوق کے مطابق کام کیا کرتا ہے۔جو شخص ایمان سے کورا ہوتا ہے وہ فتنہ و فساد کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور گالیوں پر اتر آتا ہے۔کیا جس شخص میں ایمان ہوتا ہے وہ اپنے جذبات کو اپنے قابو میں رکھتا ہے اور فساد اور فتنہ پر نہیں اتر آتا۔پس تم صرف یہ نہ دیکھو کہ تمہارا دشمن کیا کرتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں کس مقام کے لیے پیدا کیا ہے۔اگر دشمن تمہیں اشتعال دلاتا ہے تو تم اپنے جذبات کو قابو میں رکھو اور اُسے اس طرح جواب دو کہ اگر اُسے فائدہ نہ پہنچے تو کم از کم دوسرے ساتھ بیٹھنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے اور وہ دشمن کے عمل اور تمہارے عمل میں فرق کر سکیں۔اگر تم میں اور تمہارے دشمن میں دوسرا شخص کوئی امتیاز نہیں کر سکتا تو تم میں اور اُس میں کوئی فرق نہیں۔اگر تمہارے ساتھ بیٹھنے والے اور تمہاری بات سننے والے لوگ تمہارے درمیان اور تمہارے دشمن کے درمیان فرق کر لیں تو تم اللہ تعالیٰ کے فضل کے امیدوار ہو سکتے ہو۔مجھے یاد ہے کہ خلافت کا جھگڑا شروع ہونے سے پہلے میں نے ایک دفعہ رویا دیکھا کہ کوئی بہت بڑا اور اہم کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے راستہ میں