خطبات محمود (جلد 35) — Page 331
$1954 331 خطبات محمود بہر حال ایک آمرانہ نظام ہے۔چاہے عملی طور پر جمہوری نظام کہلانے والا آمرانہ ہو اور آمرانہ نظام کہلانے والا جمہوری ہو، لیکن بعض اوقات لوگ صرف ظاہری شکل کو دیکھتے ہیں باطنی شکل کی کی طرف نظر نہیں کرتے۔چنانچہ بعض لوگ یہ دلیل دینا شروع کر دیتے ہیں کہ ظاہری شکل چاہے کتنی اچھی ہو لیکن جب اس کے پس پردہ آمریت نظر آ رہی ہو تو یہ بات بڑھتے بڑھتے ملک سے جمہوریت کا خاتمہ کر دے گی۔غرض فلسفیانہ اور منطقیانہ رنگ میں بیسیوں حجتیں پیش کی جاسکتی ہیں اور اس وقت عملی طور پر پیش کی جا رہی ہیں اور مخالف لوگ موجودہ نظام حکومت پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں اور ایسے ارادے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس نظام حکومت کا مقابلہ ا کریں گے ظاہراً تو وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ آئینی طور پر اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔لیکن ممکن ہے کہ وہ طاقت کے ذریعہ سے موجودہ نظام حکومت کو بدلنے کا طریق اختیار کریں اور اس طرح فساد پیدا ہو۔پس ملک کے حالات ایسے نہیں کہ ہم ان پر تسلی پا جائیں۔اور پھر وہ ایسے بھی نہیں کہ ہم انہیں محض دنیوی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔اس لیے کہ وہ ہم پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں اور آئندہ اثر انداز ہوں گے۔جو جماعت اکثریت میں ہوتی ہے وہ اپنی اکثریت کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ان حالات کا ان کی ذاتوں پر اثر پڑتا ہے کیونکہ اکثریت کی وجہ سے ان کے اندر نظام بدلنے کی طاقت ہوتی ہے۔پس ان کا جسم بھی محفوظ رہتا ہے اور دین بھی محفوظ رہتا ہے۔لیکن جب کوئی جماعت تھوڑی تعداد میں ہو اور اس کے افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہو، ان کے حقوق پر اگر پابندیاں لگا دی جائیں اور ان کی آزادی کو سلب کر لیا جائے تو یہ بات ان کے لیے جسمانی ہی نہیں بلکہ دینی بھی ہوتی ہے کیونکہ انہیں نہ دینی حالات کے بدلنے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ جسمانی حالات کے بدلنے کی طاقت ہوتی ہے۔پس موجودہ حالات ہماری جماعت کے لیے ایسے نہیں کہ وہ نظر انداز کیے جاسکیں۔اس لیے ہمیں ہر وقت دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔بہر حال اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کی بہت سی شکلیں بظاہر نیک معلوم ہوتی ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہوا کرتی ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص مقبول بندوں کے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔اس کے متعلق یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشا بھی یہی ہے اور ایک چیز ایسی ہوتی