خطبات محمود (جلد 35) — Page 23
$1954 23 خطبات محمود پڑھ کر خطبہ کو پورا کرنا ہوتا ہے۔گویا وہ کسی مقصد کے لیے خطبہ جمعہ نہیں پڑھتے بلکہ خطبہ کے لیے کوئی بات بیان کر دیتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں خطبہ کسی خاص غرض اور مقصد کے لیے پڑھا جاتا ہے۔اس لیے ہمارے طریق کے مطابق یہ بات نہایت مشکل ہے کہ کوئی شخص خواہش کرے کہ فلاں بات خطبہ میں بیان کی جائے اور اسے بیان کر دیا جائے۔اس کے معنے تو یہ ہیں کہ کسی خاص مقصد اور اسکیم کے ماتحت خطبہ نہ پڑھا جائے بلکہ جو شخص جس بات کے متعلق رقعہ دے اُس پر خطبہ پڑھ دیا جائے۔مگر چونکہ شکایت کرنے والی ایک تو احمدی خاتون ہیں اور پھر وہ دُور کے علاقہ کی رہنے والی ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اُن کی خواہش کو پورا کر دوں۔لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر خطبات کے سلسلہ میں لوگوں کی ساری خواہشات کو سامنے رکھا جائے تو خطبہ کی غرض اور اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔بہر حال اس نو احمدی خاتون نے یہ شکایت کی ہے کہ مسجد میں عورتوں کے لیے جو حصہ ہے اس میں بچے بھی آ جاتے ہیں جو خطبہ اور نماز کے وقت شور مچاتے ہیں اور بعض اوقات مسجد میں پیشاب کر دیتے ہیں۔اس کے متعلق میں لجنہ اماء اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ در حقیقت، اُس کا فرض ہے کہ وہ عورتوں کو ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف اور اسی طرح صفائی کی طرف توجہ دلائے اور انہیں ایسی باتیں سمجھائے۔لیکن پھر بھی ہم اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ لجنہ اماء اللہ کو اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلا دی جائے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ پوری ہمت کے ساتھ ان باتوں میں لگ جائیں تو وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔مگر میں ان کو احمدی خاتون سے بھی یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم میں اور دوسرے مسلمان فرقوں میں ایک فرق ہے۔اور وہ فرق بھی انہیں سمجھ لینا چاہیے۔باقی فرقوں میں عورتوں کے جمعہ کے لیے مسجد میں آنے کے متعلق اصرار نہیں کیا جاتا اس لیے جمعہ کے لیے مسجد میں عورتیں کم آتی ہیں۔لیکن یہاں شریعت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے ہم اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ عورتیں قومی کاموں میں حصہ لیں۔اس لیے ہمارے اس اصرار کی وجہ سے کہ عورتیں ایسے مواقع پر ضرور آئیں بچے بھی اُن کے ساتھ مسجد میں آجاتے ہیں۔دوسرے فرقوں میں چونکہ مسجد میں عورتوں کے آنے پر اصرار نہیں ہوتا اس لیے وہاں اول تو عورتیں آتی ہی بہت کم ہیں اور جو آتی ہیں و