خطبات محمود (جلد 35) — Page 322
$1954 322 خطبات محمود کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں تو اکثر تعداد ایسے لوگوں کی پائی جاتی ہے جو مسلمان ہیں اور مذہباً کمیونزم کے خلاف ہیں اور کمیونسٹ نہایت تھوڑی تعداد میں ہیں۔میں نے کہا آج دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو دوسرے ملک کی مدد کے بغیر لڑائی جاری رکھ سکے۔بھارت میں کمیونسٹ زیادہ ہیں اور پاکستان میں کم۔بھارت کے کمیونسٹ پہلے پاکستان میں شرارت کرائیں گے تاکہ بوقت ضرورت ان کی مدد ہو سکے۔لیکن اگر بھارت میں شرارت ہو تو چونکہ پاکستان میں کمیونسٹ بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں اس لیے یہ بھارتی کمیونسٹوں کی مدد نہیں کر سکیں گے۔پس اگر کوئی سیاسی تغیر واقع ہوا تو پہلے یہاں ہو گا پھر ہندوستان میں ہو گا۔دوسری بات ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیم بیشک موجود ہے لیکن اسلامی کہلانے والی جماعت ہی کمیونسٹ ہے۔اس ملاقات سے پہلے یہ بات مشہور تھی کہ اسلامی جماعت کو کسی بیرونی ملک سے امداد ملتی ہے اور وہ بیرونی ملک امریکہ ہے۔مسلم لیگ کے ایک سیکرٹری نے بھی مجھے بتایا کہ اسلامی جماعت کو امریکہ سے مدد آ رہی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست نہیں۔دینے والا بتاتا تو نہیں لیکن اس امریکن کے سامنے جب میں نے یہ فقرہ کہا کہ یہاں ایک اسلامی جماعت کہلانے والی ہی کمیونسٹ ہے تو وہ بے ساختہ کہنے لگا امریکہ میں تو ہم انہی کو اسلام کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھتے ہیں۔اس سے میں نے معلوم کر لیا کہ اسلامی جماعت کے متعلق مشہور ہے کہ اُسے امریکہ سے مدد آ رہی ہے یہ درست ہے اور اب تو تازہ اطلاع نے اس کی اور تصدیق کر دی ہے کہ ہمارے آدمیوں نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی جماعت کا ایک وفد جو چار آدمیوں پر مشتمل ہے امریکہ کا مخفی دورہ کر رہا ہے۔بہر حال میں نے اُس امریکن سے کہا آپ نے حالات کا پوری طرح معائنہ نہیں کیا۔کسی سے بعض باتیں سُن لی ہیں اور اُنہی پر اعتبار کر لیا ہے۔لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ اس بات کا سوال ہی نہیں کہ اسلام میں کیا باتیں پائی جاتی ہیں۔ہمارا تو ملک نعروں پر چل رہا ہے۔مثلاً ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بلکہ کوئی شوشہ بھی منسوخ نہیں اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں قرآن کریم اور اسلام کی برتری ہے لیکن دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک حصہ منسوخ ہے۔اب تم کسی ملا کو کسی سٹیج پر کھڑا کر دو اور وہ یہ کہے کہ