خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 315

$1954 315 خطبات محمود اور پھر ایک مسلمان ممبر کی طرف سے پیش ہونا در حقیقت مذمت کا ووٹ تھا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جن کی گیارہ بیویاں تھیں یہ مذمت کا ووٹ تھا، حضرت ابوبکر کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمت کا ووٹ تھا، حضرت عمرؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمت کا ووٹ تھا، حضرت عثمان کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یہ مذمت کا ووٹ تھا، حضرت امام حسنؓ کے خلاف جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔گویا جن لوگوں پر اسلام کی بنیاد تھی ان کے خلاف یہ مذمت کا ووٹ تھا۔پھر اُس زمانہ سے لے کر اب تک جتنے بزرگ اسلام میں پیدا ہوئے ہیں اُن کے خلاف بھی مذمت کا ووٹ تھا۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جتنے اولیاء اسلام میں گزرے ہیں اُن میں سے اکثر کی بیویاں ایک سے زیادہ تھیں۔امریکہ اس قسم کے قانون کو جاری کرنے میں معذور تھا کیونکہ وہاں کی حکومت اسلامی حکومت نہیں۔لیکن یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک اسلامی مجلس میں ایک مسلمان کے منہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف، آپ کے خلفاء کے خلاف، آپ کے نواسے کے خلاف اور آپ کی امت کے اولیاء کرام کے خلاف اس قسم کی بے حیائی کے کلمات نکلیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ قانون پہلے زمانہ میں تو بُرا نہیں تھا لیکن اب بُرا ہو گیا ہے۔شریعت بدلتی نہیں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز پہلے وقتی طور پر کسی مصلحت کے ماتحت جائز ہو پھر خدا تعالیٰ نے اُس سے منع کر دیا ہو۔لیکن یہ بات بالکل نئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تو ایک چیز کو جائز قرار دیا ہولیکن تیرہ سوسال کے بعد ایک مسلمان یہ کہے کہ اب وہ بات جائز نہیں۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے مشہور ہے کہ کوئی جاہل پٹھان تھا۔اس نے فقہ پڑھی ہوئی تھی۔پٹھانوں میں بالعموم کنز پڑھائی جاتی ہے اور فقہ کا عام رواج ہے۔اس پٹھان نے بھی کنز پڑھی ہوئی تھی۔اس کے بعد اس نے حدیث پڑھنی شروع کر دی۔ایک دن یہ حدیث آگئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت امام حسن روئے اور آپ نے انہیں گود میں اُٹھا لیا۔اور جب سجدہ کرنے لگے تو انہیں نیچے بٹھا دیا۔حنفی فقہ کے لحاظ سے اگر نماز میں کوئی بڑی حرکت واقع ہو تو اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔چنانچہ یہ حدیث پڑھتے ہی وہ