خطبات محمود (جلد 35) — Page 314
$1954 314 خطبات محمود معززین کی ضمانتیں لے لی جائیں تو انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کا کیا قصور ہے، انہوں۔غیر حکومت کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے اس کا ادب اور احترام کیا تھا، انہیں کیا پتا تھا کہ یہ شخص اپنی تقریر میں کیا کہنے والا ہے۔جماعت کے اس رویے کا دوسرے مسلمانوں پر بہت اچھا اثر ہوا اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ احمدیوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔پھر انہی ایام میں جب لیگ کنونشن ہونے والی تھی اس کے ایک ممبر کی طرف سے ریزولیوشن پیش ہوا۔اگر چہ کنونشن نہ ہوئی اور وہ ریزولیوشن بھی پیش نہ ہوا تاہم اس نے اپنی طرف سے یہ تحریک کر دی تھی کہ لیگ کے ممبر اسمبلی میں پاس کر دیں کہ ملک میں دوسری شادی ممنوع قرار دے دی جائے اور یہ قاعدہ بنا دیا جائے کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص دوسری شادی نہ کر سکے۔یہ قانون اس قسم کا ہے کہ سوائے امریکہ کے کسی ملک میں بھی رائج ہے نہیں۔امریکہ میں دوسری شادی ممنوع ہے لیکن دوسری جگہوں پر ایسا نہیں۔مثلاً انگلستان وہاں یہ قانون ہے کہ پادری دوسری شادی نہیں کر سکتے۔چنانچہ جب کوئی دوسری شادی کے لیے پادری کے پاس آئے گا تو وہ اس سے انکار کر دے گا۔اور پادری کے انکار کی وجہ شادی گورنمنٹ تسلیم نہیں کرے گی۔اسی طرح رجسٹریشن کا محکمہ ہے وہ دوسری شادی کی رجسٹریشن سے انکار کر دے گا۔اس لیے وہ شادی قانونی شادی نہیں کہلائے گی۔لیکن اس کے یہ معنی ہیں کہ عیسائیوں پر اس قانون کا اطلاق ہو گا دوسروں پر نہیں۔اگر کوئی دوسری شادی اسلامی یا ہندو طریق پر کر لے تو حکومت کہے گی کہ ہم دوسری بیوی کو قانونی طور پر بیوی تسلیم بنے نہیں کرتے۔لیکن یہ کہ شروع سے ہی دوسری شادی نہ کی جائے اس میں وہ روک نہیں۔گی۔چنانچہ وہاں غیر مذاہب کے لوگ دوسری شادیاں کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ شادیاں قانونی شادیاں نہیں ہوتیں اس لیے وہ اپنی زندگی میں جائیداد کا ایک حصہ دوسری بیوی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔حکومت صرف یہ کہہ دیتی ہے کہ ہمارے ہاں یہ شادی ، شادی شمار نہیں ہو گی۔یہ نہیں کہے گی کہ اپنے مذہب کے مطابق دوسری شادی کرنا مجرم ہے۔وہ اسے شادی تسلیم نہیں کرے گی۔اور اگر خاوند اُس بیوی کے لیے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنی زندگی میں ہی وقف کر ے تو وہ اس سے منع نہیں کرے گی۔لیکن اس قسم کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عامہ میں پیش