خطبات محمود (جلد 35) — Page 306
$1954 306 خطبات محمود ڈاکٹر خان صاحب کے گھر پر ہو۔درد صاحب میرے ساتھ تھے۔میں نے انہیں کہا کہ وہ خان عبدالغفار خاں صاحب سے معذرت کریں اور کہیں کہ میں ڈاکٹر خان صاحب کے ہاں جاؤں گا۔شاید آپ اُن کے مکان پر نہ آ سکیں۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کی خاطر میں وہیں آ جاؤں گا۔چنانچہ وہ وہیں آگئے اور ایک گھنٹے تک ہماری آپس میں گفتگو ہوتی رہی۔میں نے خان عبد الغفار خان صاحب سے سوال کیا کہ اگر پاکستان کی میں کوئی گڑ بڑ ہوئی اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوستان کی فوجیں پاکستان میں آگئیں تو کیا یہاں کے مسلمانوں کی حالت ویسی ہی نہیں ہو جائے گی جیسی مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی ہوئی تھی؟ اس پر انہوں نے بیساختہ جواب دیا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے مسلمانوں کی حالت مشرقی پنجاب کے مسلمانوں جیسی نہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اس کا وجود ضروری تھا یا نہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اگر کچھ ہوا تو اس کا اثر لازماً مسلمانوں پر پڑے گا۔اگر پاکستان خطرے میں پڑ جائے تو یہ یقینی بات ہے کہ پاکستان میں اسلام محفوظ نہیں رہ سکتا۔ہندوؤں میں پہلے بھی بڑا تعصب تھا اور ہم نے اس اختلاف کی وجہ سے یہ برداشت نہ کیا کہ اُن کے ساتھ مل کر رہیں اور ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ ہمیں ایک علیحدہ ملک ملے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہماری خواہش کو پورا کر دیا اور ہمیں پاکستان کی شکل میں ایک علیحدہ ملک عطا کیا۔مسلمانوں کی اس جدوجہد کو دیکھ کر ہندوؤں کے دلوں میں خیال پیدا ہو گیا کہ مسلمانوں نے ہمیں سارے ہندوستان پر حکومت کرنے سے محروم کر دیا ہے اور انہوں نے سارے ملک میں مسلمانوں کی سیاست اور خود مسلمانوں کے خلاف شدید پروپیگنڈا کیا۔پہلے اُن کی ذہنیت اتنی زیادہ مسموم نہیں تھی اور اُن میں سے بعض کے دل میں مسلمانوں کے لیے رواداری کا جذبہ ایک حد تک پایا جاتا تھا لیکن مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کی وجہ سے اُن کی ذہنیت اب بالکل بدل گئی ہے اور مسلمان انہیں سانپ اور بچھو کی طرح نظر آنے لگ گئے۔اگر خدانخواستہ پاکستان میں گڑ بڑ واقع ہوئی اور اس کے نتیجہ میں ہندوستان کی فوجیں ملک میں داخل ہوئیں تو وہ اس ذہنیت سے نہیں آئیں گی جو اُن کی تقسیم ملک سے پہلے تھی۔اس وقت تعصب اتنا زیادہ نہیں تھا