خطبات محمود (جلد 35) — Page 305
$1954 305 خطبات محمود کہ ملک کے مختلف فرقوں میں تنافر اور تباغض پیدا ہو جائے اور ایسی باتیں شروع ہو جائیں جنہیں ملک کے مختلف فرقے پسند نہ کرتے ہوں یا اس حد تک علیحدگی اختیار کر لی جائے کہ ملک کے مختلف فرقے اپنی مخصوص تعلیمات، جماعت کے افراد کے سامنے نہ رکھ سکیں۔کیونکہ اپنی مخصوص تعلیمات کو جماعت کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع جمعہ کا خطبہ ہی ہوتا ہے لیکن دنیوی امور کا بھی ایک حصہ مذہب کے ساتھ اس طرح وابستہ ہے کہ اسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پر اب ایک ایسا وقت آ گیا ہے کہ اس کی موجودہ حالت کو مذہب سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ایسا نکلتا ہے کہ مذہب اور عقیدہ دونوں ہی اس کی زد میں آجائیں۔میں اس بات کو درست نہیں سمجھتا کہ مذہبی لوگ سیاسی امور کے متعلق کچھ نہ کہیں۔سیاسی امور میں حصہ لینا تمام شہریوں کا حق ہے لیکن ان کے لیے مساجد کو ذریعہ بنانا درست نہیں۔مساجد کے باہر وہ بیشک سیاسی جلسے کریں، تقریریں کریں، اشتہارات شائع کریں یہ اُن کا جائز حق ہے جو اُن سے چھینا نہیں جا سکتا لیکن عبادات کو اس کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔مثلاً سیاسی اختلافات کی بناء پر خطبات کو کسی خاص مجلس کے پرو پیگنڈا کا ذریعہ بنا لینا ناجائز ہے۔لیکن ان کا دینی پہلو جائز ہے جیسے اس قسم کے خطرات کے موقع پر لوگوں کو دعا کی طرف توجہ دلانا ہے کیونکہ اس کا کسی خاص فرقہ یا جماعت سے تعلق نہیں ہوتا۔میں دیکھتا ہوں کہ پچھلے چند ایام میں ملک میں بعض ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جو خود پاکستان کی ہستی کو ہی خطرہ میں ڈال رہے ہیں اور یہ حالات اس حد تک بڑھتے جا رہے ہیں کہ افراد کا دماغی توازن قائم نہیں رہا۔ہر فریق ، ہر جتھا اور ہر صوبہ ایسی باتیں اختیار کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان باقی نہیں رہ سکتا۔اور اس کا اثر لازمی مسلمانوں پر پڑے گا۔میں مسئلہ کشمیر سے دلچسپی رکھتا ہوں۔1948ء میں جب میں پشاور گیا تو اس سلسلہ میں ڈاکٹر خان صاحب اور عبدالغفار خان صاحب سے بھی ملنے گیا۔جہاں تک ظاہری اخلاق کا سوال ہے انہوں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا مثلاً دونوں بھائیوں میں اُن دنوں کسی وجہ سے شکر رنجی تھی اس لیے وہ آپس میں ملتے نہیں تھے۔ہماری ملاقات کے متعلق یہ تجویز ہوئی کہ و وہ