خطبات محمود (جلد 35) — Page 14
$1954 14 خطبات محمود در حقیقت درست نہیں تھی۔طائف والے مکہ والوں سے بھی عداوت میں بڑھے ہوئے تھے۔جب آپ نے انہیں تبلیغ کرنی چاہی تو انہوں نے مختلف بہانے بنانے شروع کر دیئے۔ادھر انہوں نے لڑکوں کو حملہ کے لیے اُکسا دیا اور کہہ دیا کہ جب آپ باہر نکلیں تو آپ پر پتھر برسائیں اور آپ کے پیچھے گئے ڈال دیں۔جب آپ طائف کے رؤساء سے مایوس ہو کر باہر نکلے تو لڑکوں نے آپ کو پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ساتھ ہی انہوں نے کتوں کو اُکسا دیا اور وہ بھی آپ کے پیچھے دوڑے۔آپ اس حالت میں شہر چھوڑ کر باہر نکلے مگر وہاں بھی لوگ آپ کے پیچھے پیچھے آئے۔یہاں تک کہ آپ کے جسم پر کئی جگہ زخم آ گئے اور خون بہنے لگی گیا۔مکہ والے اکثر رئیسوں کی جائیدادیں اور باغات طائف میں تھے۔آپ ایک باغ کے پاس آئے جو ایک شدید دشمن اسلام کا تھا مگر اُس وقت آپ کی حالت کو دیکھ کر اُسے بھی رحم آگیا اور اُس نے آپ کو اپنے باغ میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔جب طائف والوں کا آپ نے یہ سلوک دیکھا تو آپ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ چلو مکہ چلیں۔اُس نے کہا يَارَسُولَ الله ! شاید آپ کو مکہ والوں کا قانون معلوم نہیں۔مکہ والے حقوقِ شہریت سے محروم نہیں کرتے۔لیکن جب کوئی شخص اپنی مرضی سے مکہ چھوڑ کر چلا جائے تو پھر دوبارہ اُسے مکہ میں داخل نہیں ہونے دیتے جب تک اُسے کسی رئیس کی پناہ حاصل نہ ہو۔آپ اپنی خوشی سے وہاں سے نکل آئے تھے اور اب مکہ والے سمجھتے ہیں کہ آپ وہاں کے باشندے نہیں رہے سوائے اس کے کہ ملکہ کا کوئی رئیس یا مکہ کے پنچوں میں سے کوئی ذمہ دار شخص آپ کو پناہ دے۔چنانچہ جب آپ مکہ کے پاس پہنچے تو آپ نے اُسے مطعم بن عدی کے پاس بھیجوایا۔مطعم بن عدی آپ کا ایک شدید دشمن تھا۔وہ اور اُس کے بیٹے رات دن آپ کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔آپ نے اُسے فرمایا تم مطعم بن عدی کے پاس جاؤ اور اُسے میرا نام لے کر کہو کہ میں پھر مکہ میں واپس آنا چاہتا ہوں۔اگر تم مجھ کو شہریت کے حقوق دے دو جس کا یہ ہے کہ تم مجھے اپنی پناہ میں لے لو تو پھر میں واپس آ سکتا ہوں۔اُس کو تعجب تو ہوا کہ اتنا شدید دشمن جو رات دن دشمنی کرتا رہتا ہے اس کے پاس جانے کا فائدہ کیا ہو گا مگر وہ چلا گیا۔درحقیقت وہ مکہ والوں کی فطرت کو نہیں سمجھتا تھا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طریق