خطبات محمود (جلد 35) — Page 231
$1954 231 خطبات محمود ہوئی ہے۔اب وہاں گھی اور گندم جائے گی اس لیے موقع ہے جس قدر ٹوٹ سکولوٹ لو حالانکہ کی ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہاں مصیبت آئی ہے تو اس قسم کی مصیبت یہاں بھی آسکتی یہ کوئی شرافت اور ایمانداری نہیں کہ تم گھی مہنگا کر دو اس لیے کہ گھی مشرقی بنگال جانا ہے۔ہے۔تم گندم مہنگی گر دو اس لیے کہ گندم مشرقی بنگال جانی ہے۔جب غلہ مہنگا ہوتا ہے تو اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ملک میں اس سال غلہ اس قدر پیدا ہوا ہے کہ باوجود اس کے کہ گورنمنٹ نے گندم کا نرخ 9/4/0 روپے فی من مقرر کیا تھا بازار میں گندم پانچ چھ روپے فی من کے حساب سے ملتی رہی ہے۔سندھ میں تو گندم بعض جگہ چار چار روپے فی من کے حساب سے بھی پکی ہے۔لوگوں نے شور مچایا اور کہا کہ اگر گندم کی قیمت عملی طور پر یہی رہی تو ہم مالیہ بھی اسی قیمت کے حساب سے دیں گے کیونکہ سندھ میں مالیہ فصل کی قیمت کے حساب سے ہوتا ہے۔اس پر گورنمنٹ نے اپنے مفاد کی خاطر مقرر کردہ قیمت پر گندم کی خرید شروع کی۔اس نے یہ سمجھ لیا کہ اگر سارے ملک میں دس لاکھ ایکڑ گندم کاشت ہو اور اوسط قیمت چھ روپے ہو اور فرض کرو ہمیں دس روپیہ فی ایکڑ مالیہ ملے تو کل مالیہ ایک کروڑ روپے ملے گا۔لیکن اگر اوسط قیمت 91 روپے فی من ہو تو مالیہ ڈیڑھ کروڑ ملے گا۔ہمارا اس وقت پچاس لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے۔ہم کیوں نہ کچھ گندم مقرر کردہ نرخ پر خرید لیں۔اگر ہم و دو لاکھ من گندم خرید لیں تو ہمیں پانچ چھ لاکھ روپیہ کا گھاٹا پڑے گا اور باقی مالیہ بچ جائے گا۔پس گورنمنٹ نے خیال کیا کہ اگر ہم دو تین لاکھ من گندم خرید لیتے ہیں تو نقصان نو دس لاکھ روپیہ کا ہو گا اور باقی روپیہ کا فائدہ ہو گا۔اور اگر ہم گندم نہیں خریدتے تو پچاس لاکھ روپیہ کا نقصان ہو گا۔اس لیے انہوں نے گندم خریدنے کا فیصلہ کیا اور تھوڑے ہی دنوں کے کو بعد انہوں نے زمینداروں کو یہ نوٹس دے دیا کہ چونکہ تم لوگ گندم وقت پر مارکیٹ میں نہیں لائے اس لیے ہم آئندہ اس بھاؤ پر گندم کی خرید نہیں کریں گے۔بہر حال یہاں کے لوگوں نے بجائے ہمدردی کا اظہار کرنے کے الٹا نمونہ دکھایا۔بجائے اس کے کہ وہ انہیں ضرورت کی چیزیں مہیا کرتے انہوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ گھی کی اس وقت ضرورت ہے اس لیے اسے مہنگا کر دو، گندم کی ضرورت ہے اس لیے اس کا نرخ بڑھا دو