خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 230

$1954 230 خطبات محمود اور اُنہی پر کھانا پکاتے ہیں۔تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ بانسوں کی چھتوں پر وہ روٹی کیا پکائیں گے۔گھاس پھونس پر آگ جلائی جائے تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔اس لیے خیالی طور پر ہی روٹی پکتی ہوگی یعنی وہ ویسے ہی آٹا وغیرہ پھانک کر گزارہ کرتے ہوں گے۔ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگ جو اس مصیبت سے محفوظ ہیں اپنے ان بھائیوں کی مدد کریں جو اس وقت مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک کی ذہنیت ایسی خراب ہو چکی ہے کہ بجائے اس کے مصیبت میں مبتلا لوگوں سے وہ ہمدردی کا اظہار کریں اور ان کے لیے قربانی اور ایثار۔کام لیں وہ اور زیادہ ٹوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ایسٹ پاکستان میں اس دفعہ زیادہ بارش ہوئی ہے اور وہاں خطرناک سیلاب آیا ہوا ہے۔یہاں بارش بہت کم ہوئی ہے لیکن اس علاقہ میں غلہ ضرورت سے دس فیصدی زیادہ پیدا ہوا تھا۔مگر اُدھر مشرقی بنگال میں سیلاب آیا اور اُدھر بعض علاقوں میں غلہ کی قیمت سولہ روپے من ہو گئی۔پھر یہ خبر مجھے سندھ میں پہنچ گئی تھی کہ یہاں گھی کا بھاؤ۔کا بھاؤ ساڑھے چھ روپیہ فی سیر ہو گیا ہے۔سندھ میں گھی کا بھاؤ پنجاب سے ایک روپیہ فی سیر ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں بھینسیں رکھنے کا رواج نہیں۔وہاں لوگ گائیں رکھتے ہیں۔پھر وہ جانوروں کی پرورش بھی اچھی طرح نہیں کرتے۔پھر گھی بھی کم نکالتے ہیں۔وہاں لوگ سالن نہیں پکاتے۔روٹی ، دودھ کے ساتھ کھا لیتے ہیں یاکسی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔اس کسی میں سے مکھن کم نکالتے ہیں تالتی چکنی رہے۔پس گھی کی طرف ان کی توجہ کم ہے۔پنجابی لوگ جو وہاں آباد ہیں وہ بھینسیں رکھتے ہیں اور گھی انہی سے ملتا ہے۔اس لیے یہاں اگر گھی کا بھاؤ تین روپے سیر ہو تو وہاں چار روپے سیر ہوتا ہے، یہاں چار روپے سیر ہو تو وہاں پانچ روپے سیر ہوتا ہے، یہاں پانچ روپے سیر ہو تو وہاں چھ روپے سیر ہوتا ہے لیکن اس دفعہ وہاں گھی کا بھاؤ ساڑھے چار روپے فی سیر ہے اور یہاں چھ، ساڑھے چھ روپیہ فی سیر ہے حالانکہ پنجاب میں گھی کثرت سے ملتا ہے۔پھر ریلیں اور سڑکیں ایک علاقہ کو دوسرے علاقہ سے ملاتی ہیں اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ گھی کا بھاؤ اس قدر بڑھ جائے۔گندم اور گھی کا بھاؤ بڑھ جانے کی وجہ صرف یہی ہے کہ لوگوں نے دیکھا کہ مشرقی پاکستان پر اس وقت مصیبت آئی