خطبات محمود (جلد 35) — Page 210
$1954 210 خطبات محمود رقعہ لکھنا۔ابھی سے میرا وقت کیوں ضائع کر رہے ہو؟ خیر وہ چلا گیا۔اُس کے جانے کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اول کو سنایا کہ اس اس طرح عبداللہ یتیما پوری سے باتیں ہوئی ہیں۔فال والی بات سن کر آپ بہت ہنسے اور فرمانے لگے میری طرف سے اُسے کہنا (عبداللہ تیا پوری کا رنگ کالا تھا کہ مرزا صاحب نے تیرا کالا کوٹ دیکھ کر نہیں مانا تو ہم تیرا کالا رنگ دیکھ کر کس طرح مان لیں؟ تو اس رنگ کی بھی بعض طبیعتیں ہوتی ہیں۔اصل میں وہ دنیا میں بڑھنا چاہتے ہیں مگر چونکہ انہیں اور کوئی سامان میسر نہیں ہوتے اس لیے وہ الہام کے دعوے کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہر دعوے کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہیے اور سچائی کی کوئی علامت بھی ہونی چاہیے۔وہ علامتیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور اُن کے مطابق سچائی کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔مثلاً اس زمانہ میں اسلام ایک مصیبت میں پھنسا ہوا ہے اور کفر کا دنیا پر غلبہ ہے۔اب جو شخص قرآن اور اسلام کی خدمت کر کے دکھا دے گا ہم مان لیں گے کہ وہی کہ جس کی زمانہ کو ضرورت تھی۔حضرت مرزا صاحب نے یہی کہا کہ میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا6 اس کی وجہ یہی ہے کہ جب اسلام ایک بیمار کی طرح تھا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے علاج کے بغیر رہنے دیتا۔یہی ہم غیر احمدیوں سے کہتے ہیں کہ جو مسیح نے کام کرنا تھا جب وہ سب کچھ مرزا صاحب کر رہے ہیں تو تمہیں ان کے ماننے میں غذر کیا ہے؟ مسیح نے عیسائیت کا زور توڑنا تھا وہ زور مرزا صاحب نے تو ڑا دیا۔مسیح نے غلط خیالات اور غلط عقائد کی اصلاح کرنی تھی وہ آپ نے کر دی۔اسی طرح قرآن کی آپ نے خدمت کی۔اسلام کی آپ نے اشاعت کی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو آپ نے پھیلایا۔پھر اور کون سا کام ہے جو مسیح آ کر کرے گا۔اور جب ایک شخص نے ثابت کر دیا ہے کہ اُس نے اصلاح کر کام کر دیا ہے تو انکار کے کوئی معنے نہیں۔لیکن بنگل مار لی، چار پائی کے نیچے گھس گئے اور دوسرے کے کان میں کہہ دیا کہ مان لو! مجھے الہام ہوتا ہے اور ہم نے ذکر الہی کے بہانہ سے ”ہو ہو کرنا شروع کر دیا۔تو نہ ایسے ایمان کی کوئی حقیقت ہے اور نہ ایسے الہام کی