خطبات محمود (جلد 35) — Page 207
$1954 207 خطبات محمود نئی چیز ہوتی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ جیسی بھی بنے گی مشکل سے بنے گی کیونکہ ان اس کے اندر مخفی خرابیاں موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مثال دیا کرتے تھے کہ خالی تختی پر لکھنا کتنا آسان ہوتا ہے لیکن خراب سختی پر جس پر جابجا لکھا ہوا ہو اُس پر کچھ اور لکھنا مشکل ہوتا ہے۔اُس پر لکھنے کے لیے پہلے انسان اُسے دھوئے گا، پھر گا چنی لگائے گا، پھر خشک کرے گا اور پھر لکھے گا۔لیکن خالی تختی پر بڑی آسانی سے خوشخط سے خوشخط لکھا جا سکتا ہے۔غرض ہمارے زمانہ میں لوگ مذہب سے اتنے دور ہو چکے ہیں اور ان کے دلوں پر اتنی غلط باتیں لکھی جا چکی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق کٹ چکا ہے اور دین سے ان کو اتنا بعد ہو چکا ہے کہ جس طرح ریتی لے کر رگڑا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی ان کو رگڑتے ہیں۔مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعد میں ہمیں پتا لگتا ہے کہ جہاں سے رگڑنا چاہیے تھا وہاں سے ہم نے رگڑا ہی نہیں۔کسی اور جگہ رگڑتے رہے ہیں۔پھر وہ ہیں بھی انسان اور انسان انکار بھی کر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے میں تو نہیں مانتا۔پس اگر کسی کو جماعت کے افراد میں کوئی نقص نظر آتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ اُس نقص کو دور کرنے کی کوشش کرے۔اعتراض کرنا محض حماقت ہے کیونکہ اس میں جیسے زید کی ذمہ داری ہے ویسی ہی عمر اور خالد کی بھی ذمہ داری ہے۔حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ تھے جو بھوپال میں رہا کرتے تھے۔اور میں کبھی کبھی اُن سے ملنے کے لیے چلا جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ کام زیادہ ہوا تو میں کئی دن تک ان سے ملنے کے لیے نہیں گیا۔بہت دنوں کے بعد جب میں گیا تو مجھے دیکھ کر فرمانے لگے نورالدین! اتنے دن ہو گئے تم آئے نہیں؟ میں نے کہا کام زیادہ تھا، پڑھائی کی طرف زیادہ توجہ رہی اس لیے آ نہیں سکا۔کہنے لگے کبھی تم قصاب کی دکان پر گئے ہو؟ میں نے کہا کئی دفعہ۔کہنے لگے تم نے دیکھا ہو گا کہ وہ گوشت کاٹتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چھریاں آپس میں رگڑ لیتا ہے۔تمہیں کبھی خیال نہیں آیا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ پھر خود ہی کہنے لگے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گوشت کاٹتے کاٹتے چھریوں کو چکنائی لگ کر اُن کا منہ گند ہو جاتا ہے۔جب وہ چھریاں آپس میں رگڑتا ہے تو چکنائی دور ہو جاتی ہے اور چھریاں پھر تیز ہے ہو