خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 206

خطبات محمود 206 $1954 مگر اُسی وقت جب لالچ اور حرص کو چھوڑ دیا جائے۔باقی یہ کہ احمدی ایسے ہیں اور ویسے ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہی کام ہر احمدی کا ہے کہ وہ دوسرے کو نیک بنائے۔پس بجائے اس کے کہ وہ اعتراض کرے وہ بہ بتائے کہ اس نے کتنوں کو نیک بنانے کی کوشش کی ہے۔یا تو وہ یہ کہے کہ احمدی نیک نہیں ہو سکتے۔اور اگر یہی بات ہے تو پھر وہ خود احمدیت کو کیوں چھوڑ نہیں دیتا؟ وہ آپ اس گند میں کیوں آ گیا ہے؟ اور اگر احمدی نیک بن سکتے ہیں تو وہ ان کو کیوں نہیں بناتا ؟ پس یہ اعتراض بھی عقل کے خلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب قومیں بنتی ہیں تو اُن کے افراد کی اصلاح کے لیے ایک لمبی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال اُس کارخانہ کے مالک کی سی نہیں جس کے کارخانہ میں بڑی بڑی مشینیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔اس میں لوہا بھی ہوتا ہے، پیتل بھی ہوتا ہے، کاریگر بھی ہوتے ہیں اور وہ کارخانہ اعلیٰ قسم کی لالٹینیں بناتا چلا جاتا ہے۔آپ کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے سپر د ٹوٹی ہوئی لالٹینوں کی مرمت کی جاتی ہے۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مرمت پر کتنا وقت لگتا ہے۔یہیں دیکھ لو! ہمارے ٹریکٹر پر چھ ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے مگر وہ کھڑا ہے۔جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ فلاں جگہ سے لیک کر رہا ہے، فلاں جگہ سے پٹرول ٹپکتا ہے لیکن نئے ٹریکٹر ایک ایک دن میں دس دس پندرہ پندرہ اور بیس بیس بھی کارخانے والے نکال دیتے ہیں۔لیکن ایک ایک ٹریکٹر کی مرمت کرنے میں چھ چھ مہینے لگ جاتے ہیں۔تو بگڑی ہوئی چیز کو درست کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ٹوٹی ہوئی لالٹینیں دی گئی ہیں کہ ان کو درست کرو۔ہم ٹانکا لگاتے ہیں تو ہمیں پتا لگتا ہے کہ اب لائین دوسری طرف سے ٹپک رہی ہے۔پھر اُس جگہ ٹانکا لگاتے ہیں تو یک تیسرا نقص نکل آتا ہے۔پس ہماری مثال کارخانے والوں سے نہیں ملتی۔انہوں نے نیا مال لینا ہے اور نکالتے چلے جانا ہے اور ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اس کو کہاں کہاں ٹانکا لگنا ہے۔بعض دفعہ ٹانکا نہیں لگتا تو سارا تلا بدلنا پڑتا ہے یا باڈی بدلنی پڑتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس مرمت کے بعد جو چیز بنے گی وہ اُس قیمت کی نہیں ہوگی جس قیمت کی کارخانہ میں بنی ہوئی